Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سال کے اندر روڈ میپ کی تیاری‘، عالمی سیاحتی تنظیم کی طرف سے ریاض اعلامیے کا مسودہ جاری

اجلاس میں 150 سے زائد ممالک کے وزرائے سیاحت اور وفود کے سربراہان موجود ہیں۔ (فوٹو: سبق)
اقوامِ متحدہ کی عالمی سیاحت تنظیم آج پیر کو ریاض میں جاری اپنی موضوعاتی نشست کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق تنظیم کی 26 ویں جنرل اسمبلی کے تحت یہ نشست منعقد ہو رہی ہے۔ نشست میں ریاض اعلامیہ برائے اختراع و مصنوعی ذہانت و سیاحتپر غور کیا جا رہا ہے جو اختراع اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے سیاحت کے مستقبل کی تشکیل کے لیے دنیا کی اہم ترین عالمی اقدامات میں سے ایک ہے۔
یہ اجلاس ریاض میں دوپہر ایک بجے تک جاری رہے گا جس میں 150 سے زائد ممالک کے وزرائے سیاحت اور وفود کے سربراہان کے علاوہ مائیکروسافٹ،ٹرپ ڈاٹ کام، امادیوس اور عالمی اقتصادی فورم جیسی بڑی تکنیکی و سیاحتی کمپنیوں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔
آج کی بحث کا مرکزی نکتہ ریاض اعلامیہہے جسے اجلاس کے اختتام پر باضابطہ طور پر منظور کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ اعلامیہ بین الاقوامی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے جو اختراع اور مصنوعی ذہانت پر مبنی عالمی سیاحتی تبدیلی کے خد و خال متعین کرے گا اور اس سے اس شعبے کے مستقبل کی تشکیل میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار کا اظہار ہوگا۔
اعلامیے کے مسودے میں 9 بنیادی نکات شامل ہیں جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:
پائیدار سیاحت کی طرف منتقلی کو تیز کرنا، جو اقتصادی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی توازن کو یکجا کرے۔
تکنیکی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان شراکتوں کے فروغ کے ذریعے ڈیجیٹل تبدیلی کو مضبوط بنانا۔
ڈیٹا گورننس کے اعلیٰ معیارات قائم کرنا تاکہ سیاحتی پلیٹ فارمز پر رازداری اور سائبر سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انسانی صلاحیتوں کی ترقی کے لیے تربیتی و پیشہ ورانہ پروگرام تیار کرنا جو اختراع پر مبنی سیاحتی معیشت کی حمایت کریں۔
مصنوعی ذہانت اور سیاحتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے والی نئی کمپنیوں اور کاروباری قیادت کی حوصلہ افزائی۔
دنیا بھر میں سیاحوں کی غیر متوازن تقسیم کو ذہین حل اور ڈیجیٹل پلاننگ کے ذریعے متوازن بنانا۔
ثقافتی و مقامی سیاحت کی تائید، اختراع کو شناخت و ورثے کے تحفظ میں شامل کرتے ہوئے۔
مصنوعی ذہانت کے آلات کے استعمال سے نقل و حمل، مواصلات اور عوامی سلامتی کے نظام کو بہتر بنانا۔
اقوامِ متحدہ کی عالمی سیاحت تنظیم کی نگرانی میں، اعلامیہ کی منظوری کے بعد 12 ماہ کے اندر سیاحت کے مستقبل کے لیے ایک عالمی روڈ میپ تیار کرنا۔
اختتامی اجلاس میں سعودی وزیرِ سیاحت احمد الخطيب اعلامیے کے مسودے کو پڑھ کر اس کی باضابطہ منظوری کی تجویز پیش کریں گے، یہ اقدام سعودی عرب کی اس قائدانہ حیثیت کو مزید مستحکم کرے گا جو وہ پائیدار سیاحت کے عالمی رجحان کی قیادت میں ادا کر رہی ہے۔

شیئر: