وانا کیڈٹ کالج پر حملے میں افغانستان کے لوگ ملوث تھے: شہباز شریف
وانا کیڈٹ کالج پر حملے میں افغانستان کے لوگ ملوث تھے: شہباز شریف
بدھ 12 نومبر 2025 17:49
وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ اس ایوان نے جو بڑی یکجہتی کا اظہار کیا اور قومی اتحاد اور یگانگت کو فروغ ملا، تو اس ایوان کو میری طرف سے اور تمام قائدین کی طرف سے شکریہ اور مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
بدھ کو سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کل (منگل کو) وانا میں جو دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کا بازار گرم گرنے کی گھٹیا اور مذموم حرکت کی، اس واقعے نے سانحہ اے پی ایس کی یاد تازہ کر دی۔
’یہ جو خوارج تھے، ان میں بدقسمتی سے افغانستان کے لوگ بھی شامل تھے، تمام کے تمام جہنم رسید ہوئے اور تمام کیڈٹس، طلبہ اور استاتذہ کو بحفاظت وہاں سے نکالا گیا۔ میں اس پر پوری قوم کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں اور افواج پاکستان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑے اعلٰی پائے کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور قوم کے ان بیٹوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا۔‘
انہوں نے اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے خودکش حملے کے حوالے سے کہا کہ ’کل (منگل کو) اسلام آباد میں دہشت گردی کا ایک بہت اندوہناک واقعہ ہوا۔ دہشت گردوں نے اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس کا نشانہ بنانا تھا لیکن افراتفری میں ان کو کچھ نہ سوجھا اور خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 12 پاکستانی شہید ہوئے جن میں وکلا بھی ہیں۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان واقعات میں خارجی ہاتھ بالکل نمایاں ہے۔ اور کل کے واقعے پر جب میں نے ایک بیان دیا اور کہا کہ اس میں انڈین ہاتھ شامل ہے اور بدقسمتی سے ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان کے ملوث ہونے کے بھی آثار نظر آتے ہیں تو اس پر انڈین حکومت نے ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ یہ سب لغو اور بے بنیاد الزامات ہیں۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’دہشت گردوں نے جوڈیشل کمپلیکس کا نشانہ بنانا تھا لیکن افراتفری میں ان کو کچھ نہ سوجھا اور خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے کچھ زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں، جو بلوچستان میں دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس ٹرین کو اغوا کیا تھا اس کے ثبوت ہم پوری دنیا کے سامنے لے کر آئے کہ کس طرح ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغانستان سے متحرک تھے اور دہشت گردوں کا رابطہ ان کے ساتھ تھا اور آگے ان کا رابطہ انڈیا میں ان کے وہاں سپوٹرز کے ساتھ تھا۔ اور یہ سب حقائق ہم نے پوری دنیا کے ساتھ پیش کیے جنہیں کسی نے چیلنج نہیں کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں ان دشمنان پاکستان ان خارجی عناصر کو پوری قوت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں آپ کی حرکتوں کا پوری طرح علم ہے، آپ کو پہلے بھی منہ توڑ جواب دیا ہے اور اب بھی منہ توڑ جواب دیں گے۔ پاکستان کے امن، اس کی ترقی و خوشحالی میں اب قطعاً آپ کو حائل نہیں ہونے دیں گے۔‘
وزیراعظم نے دوحہ اور استنبول میں طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ’ابھی دوحہ اور استنبول میں امن مذاکرات ہوئے اور پاکستان نے اس میں شرکت کی۔ ہماری ایک ہی شرط تھی کہ افغانستان کی جو عبوری حکومت ہے، جسے ابھی نہیں بلکہ گذشتہ دو تین برس سے یہ بات کی جا رہی ہے کہ آپ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت دوسری دہشت گرد تنظیموں کو لگام ڈالیں جو افغان سرزمین کا استعمال کر کے نہتے اور معصوم پاکستانیوں کو شہید کر رہے ہیں۔ ہر روز ہماری افواج خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ان کا مقابلہ کر رہی ہوتی ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ امن قائم ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان اس پر آ جائے اور پاکستان کے ساتھ امن میں برابر شریک ہو کیونکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ جو پاکستان کے لیے اچھا ہے وہ ان کے لیے بھی اچھا ہے، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ہم سے جھوٹے سچے وعدے کریں اور ان کو لگام نہ دیں۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ وانا میں جو دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کا بازار گرم گرنے کی گھٹیا اور مذموم حرکت کی۔ (فوٹو: سکرین گریب)
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب ایک مہینہ پہلے پاکستان پر حملہ تو افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی انڈیا میں تھے۔ جن افغان بھائیوں اور بہنوں کو پاکستان نے 40 برس مہمان رکھا اور مہمان نوازی کی۔ لیکن آج ان 40 برسوں کی مہمان نوازی کا جو ہمیں صلہ دیا جا رہا ہے وہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ وہ (افغان وزیر خارجہ) چلے گئے دہلی میں وہاں جا کے مذاکرات کیے، پھر دیوبند کا دورہ کیا۔ یہ سارے پیغامات ہمیں اچھی طرح سے سمجھ آ رہے ہیں، لیکن آج میں پھر یہ کہوں گا کہ آئیں اور صدق دل کے ساتھ بیٹھیں اور دہشت گردوں کو لگام دیں اور یقین دہانی کرائیں۔ ہم آپ کے ساتھ پوری طرح چلیں گے تاکہ اس پورے خطے میں امن قائم ہوں۔ اور پاکستان اور پورا خطہ ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بن جائے۔‘