Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جمیکا کی جڑی ہوئی بچیوں کو علیحدہ کر لیا گیا، آپریشن کے تین مرحلے مکمل

 کنگ عبد اللہ سپیشلسٹ ہسپتال میں جمیکا کی جڑی ہوئی بچیوں کو علیحدہ کر لیا گیا ہے۔
الاخباریہ ٹی وی چینل کے مطابق طبی ٹیم نے جمیکن بچیوں ’آزاریا‘ اور ’ازوار‘ کی علیحدگی کی سرجری مکمل کرلی ہے۔
طبی ٹیم نے بتایا ہے کہ ’آپریشن کے 6 مراحل میں سے تین ابتدائی مراحل کامیابی سے مکمل کر لیے گئے ہیں۔
طبی ٹیم نے جڑواں بچیوں کو علیحدہ کرنے کے بعد ہر بچی کو الگ بستر پر منتقل کر دیا ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق آپریشن کی قیادت ایوان شاہی کے مشیر اور سرجری کے نگرانِ اعلٰی ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کی سربراہی میں سعودی ماہرینِ جراحی کی ٹیم کر رہی ہے جو جڑواں بچوں کی علیحدگی میں مہارت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر عبد اللہ الربیعہ نے بتایا ہے کہ ’یہ آپریشن چھ مراحل پر مشتمل ہے اور تقریباً 9 گھنٹے جاری رہے گا۔‘
انہوں نے وضاحت کی ہے کہ طبی ٹیم نے جولائی کے آخر میں دونوں بچیوں کے سعودی عرب میں آمد کے بعد سے کئی تفصیلی اور باریک معائنے کیے ہیں تاکہ اس پیچیدہ آپریشن کی بھرپور تیاری کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ’بچیوں کے سینے اور پیٹ کے نچلے حصے، جگر، دل کی جھلی اور آنتوں میں اشتراک پایا جاتا ہے۔‘
انہوں نے کہا ہے کہ ’سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بچی ’آزورا‘ کے دل میں نقص موجود ہے اور اس کے دل کی پمپنگ صلاحیت معمول کے صرف 20 فیصد تک محدود ہے جو اُس کی زندگی کے لیے نہایت خطرناک ہے اور آپریشن کے دوران غیر معمولی دقت اور مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔‘
انہوں نے الاخباریہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کو گزشتہ 35 سال سے باہمی جڑے ہوئے بچوں کو علیحدہ کرنے کا تجربہ حاصل ہے اور اب تک 152 سیامی بچوں کے کیس کا جائزہ لیا گیا ہے۔
’آج  کیس نمبر 67 ہمارے پاس ہے اور ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ یہ آپریشن بھی کامیاب ہوگا۔ یہ تمام بچے مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا تعلق 28 ممالک اور 5 بر اعظموں سے ہے۔‘
واضح رہے کہ بچیوں کو وزارتِ دفاع کی فضائی طبی امدادی پرواز کے ذریعے ریاض منتقل کیا گیا تھا جو مختلف ممالک کے بچوں کے علاج اور علیحدگی کے لیے سعودی عرب کی جاری انسانی خدمات کا تسلسل ہے۔

شیئر: