’27ویں ترمیم آئین پر سنگین حملہ‘، سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججز مستعفی
’27ویں ترمیم آئین پر سنگین حملہ‘، سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججز مستعفی
جمعرات 13 نومبر 2025 16:55
27ویں آئینی ترمیم پر اختلاف رائے کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر ترین جج، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہو گئے ہیں۔ دونوں ججوں نے اپنے استعفے صدر کو بھجوا دیے ہیں۔
جمعرات کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کے بعد جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے چیمبرز بھی خالی کر دیے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے انگریزی اور اردو میں لکھے گئے اپنے استعفے میں کہا کہ ’27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، جس نے آئین پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔‘
’عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کر دیا گیا ہے اور ہماری آئینی جمہوریت کی رُوح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ ملک کی واحد اعلٰی ترین عدالت کو منقسم اور عدلیہ کی آزادی کو پامال کر کے پاکستان کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’اس عہدے سے وابستہ رہنا نہ صرف ایک آئینی دراندازی پر خاموش رضامندی ہوتی، بلکہ ایسی عدالت میں بیٹھے رہنے کے مترادف ہوتا جس کی آئینی آواز مکمل طور پر دبا دی گئی ہے۔‘
’26ویں آئینی ترمیم کے برعکس، جب سپریم کورٹ کے پاس ترمیم کی آئینی جانچ کا اختیار موجود تھا، 27ویں آئینی ترمیم اس اختیار کو بھی ختم کر چکی ہے۔‘
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’اس حالت میں نہ تو میں آئین کا دفاع کر سکتا ہوں اور نہ اس ترمیم کا عدالتی جائزہ لے سکتا ہوں جس نے آئینی ڈھانچے کو بگاڑ دیا ہے۔‘
’آئین جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا اب موجود نہیں رہا۔ آئینی نظام کی ایسی بگاڑ ناقابل برداشت ہے اور وقت کے ساتھ اسے پلٹا جائے گا۔‘
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’27 ویں ترمیم نے قوم کی اعلٰی عدالت کی یکجہتی کو توڑ کر عدلیہ کی آزادی اور دیانت کو مجروح کر دیا ہے۔‘
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر ترین جج کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’عدالت کے جج کے طور پر میرے سامنے صرف دو راستے کھلے تھے۔‘
’ایک راستہ ایسے نظام کے اندر رہنا جو اس ادارے کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے، دوسرا راستہ اس کی غلامی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الگ ہو جانا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں صاف ضمیر کے ساتھ جا رہا ہوں اور مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کے ساتھ خدمت کی۔‘
سپریم کورٹ کے دونوں ججوں نے جمعرات کے روز اپنے استعفے صدر کو بھیج دیے (فائل فوٹو: اردو نیوز)
’ستائیسویں آئینی ترمیم سے انصاف عام آدمی سے دُور، کمزور اور طاقت کے سامنے بے بس ہوگیا، لہٰذا میں سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج کے حیثیت سے اپنا استفیٰ پیش کرتا ہوں۔‘ جسٹس اطہر من اللہ بھی مستعفی
سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک اور سینیئر جج، جسٹس اطہر من اللہ نے بھی جمعرات کو اپنا استعفیٰ صدرِ مملکت کو بھیج دیا۔
انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں۔‘
اطہر من اللہ نے مزید بتایا کہ ’ستائیسویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط بھی لکھا تھا، خط کے مندرجات یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
’آئینی ترمیم اور حالات نے ثابت کیا کہ آئین اب اپنی روح کھو چکا ہے، میں نے پوری کوشش کی کہ خود کو قائل کروں کہ آئین زندہ ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔‘
سپریم کورٹ کے سینیئر جج کا کہنا تھا کہ ’نئے نظام کی بنیاد اب آئین کے مزار پر رکھی جا رہی ہے اور جو باقی رہ گیا ہے وہ صرف ایک سایہ ہے، آئینی روح سے خالی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ عہدہ اور لباس میرے لیے عزت کا باعث تھے، مگر اب میں ان کو آخری بار اُتار رہا ہوں۔‘