اسلام آباد دھماکہ: ٹی ٹی پی کے چار دہشت گرد گرفتار، حکومت کا دعویٰ
وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی میں اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس حملے میں ملوث تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد سیل کے چار ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
جمعے کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران خودکش بمبار کے ہینڈلر ساجد اللہ عرف ’شینا‘ نے اعتراف کیا کہ ٹی ٹی پی کے باجوڑ میں نواگئی کے انٹیلی جنس چیف سعید الرحمان عرف داد اللہ نے اُس سے اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے کے لیے ٹیلی گرام ایپ پر رابطہ کیا۔
بیان کے مطابق ٹی ٹی پی کا کمانڈر سعید الرحمان عرف داد اللہ ضلع باجوڑ کے علاقے چرمنگ کا رہائشی ہے اور اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔
سعید الرحمان عرف داد اللہ نے خودکش حملہ آور (ایس بی) عثمان عرف قاری کی تصاویر ساجد اللہ عرف شینا کو بھجوائیں تاکہ پاکستان پہنچنے پر اس سے ملاقات کرے۔
ایس بی عثمان قاری کا تعلق شنواری قبیلے سے بتایا گیا ہے اور وہ افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے علاقے اچین کا رہائشی تھا۔ جب وہ افغانستان سے پاکستان پہنچا تو ساجد اللہ عرف شینا نے اسلام آباد کے نواحی علاقے میں اس کے قیام کا انتظام کیا۔
افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے کمانڈر داد اللہ کی ہدایت پر ساجد اللہ عرف شینا نے پشاور کے اخون بابا قبرستان سے ایک خودکش جیکٹ لی اور اسلام آباد لے کر آیا۔
جوڈیشل کمپلیکس میں دھماکے کے روز ساجد اللہ شینا نے خودکش جیکٹ ایس بی عثمان عرف قاری کے حوالے کی۔
وزارت اطلاعات کے مطابق نیٹ ورک کو افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی کی اعلٰی قیادت سے رہنمائی مل رہی تھی۔ اس واقعے میں ملوث پورے سیل کو، بشمول اس کے کمانڈر اور تین دیگر ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تفتیش جاری ہے اور مزید انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے جی الیون میں منگل کو جوڈیشل کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکہ ہوا تھا جس میں کم سے کم 12 افراد ہلاک جبکہ 36 زخمی ہوئے تھے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ دھماکہ خودکش تھا، حملہ آور اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا لیکن موقع نہ ملنے پر پولیس کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔
