جیسے ہی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تاریخی قرار دی جانے والی شیڈول ملاقات کے حوالے سے توقعات بڑھ رہی ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں کا تجربہ رکھنے والے ایک تجربہ کار امریکی سفارت کار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعاون اور شراکت داری کے فروغ کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔
اپریل 2023 سے جنوری 2025 تک سعودی عرب میں امریکی سفیر رہنے والے مائیکل ریٹنی کا عرب نیوز کے ہفتہ وار کرنٹ افیئرز شو ’فرینکلی سپیکنگ‘ میں گفتگو میں کہنا ہے کہ ’ہمارے تعلقات کی نوعیت اتنی ہی متنوع ہو سکتی ہے جتنی سعودی معیشت بنتی جا رہی ہے۔‘
ریٹنی کے مطابق سعودی-امریکی تعلقات کو اب محض ’تیل کے بدلے دفاع‘ کے فارمولے تک محدود نہیں کیا جا سکتا؛ اس کے بجائے یہ شراکت داری نئی معاشی حقیقتوں اور بڑھتے ہوئے تعاون کے شعبوں کی عکاسی کرتی ہے۔
مزید پڑھیں
-
شہزادہ فیصل بن فرحان کی جی سیون ممالک کے وزارتی اجلاس میں شرکتNode ID: 897144
انہوں نے کہا کہ ’ایک وقت تھا جب تیل اور دفاع ہی اس تعلقات پر حاوی تھے۔ اور سب سے بڑی تبدیلی دراصل سعودی عرب کے اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے فیصلے سے آئی۔ اور اس نے امریکہ، خصوصاً امریکی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے بڑے مواقع پیدا کیے۔‘
یہ تبدیلی باضابطہ طور پر 25 اپریل 2016 کو شروع ہوئی، جب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ویژن 2030 کا اعلان کیا۔ ویژن 2030 قومی حکمتِ عملی جس کا مقصد سعودی عرب کو زیادہ متوازن، مسابقتی اور مضبوط معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔
مائیکل ریٹنی کے مطابق اسی وژن کے تحت وہ شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں جنہیں عام طور پر ’امریکی برانڈز‘ سمجھا جاتا ہے، جیسے مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، اور فنون و ثقافت۔
انہوں نے شو کی میزبان کیٹی جینسن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں سعودی عرب کی امنگیں کیا ہیں؟ جدید ٹیکنالوجی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس۔ یہ تو ایک طرح سے ’امریکی برانڈ‘ ہے۔ یہاں امریکی صنعت کو بہت بڑا فائدہ حاصل ہے، اور سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری کے مواقع موجود ہیں، جو بہت تیزی سے سرمایہ کاری اور ترقی کرنا چاہتا ہے۔‘
سابق امریکی سفیر نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی بھی ایسا ہی ایک مشترکہ شعبہ ہے۔
’لوگ اندازہ نہیں لگاتے کہ سعودی عرب، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والوں میں سے ہے، وہ قابلِ تجدید توانائی، یعنی ہوا، شمسی توانائی، اور میرا خیال ہے بالآخر جوہری توانائی، میں بھی سب سے بڑا سرمایہ کار ہے۔ یہ بھی وہ شعبے ہیں جن میں امریکہ کو تکنیکی برتری حاصل ہے اور شراکت داری کے مواقع موجود ہیں۔‘
اسی طرح، فنون اور ثقافت، جو تاریخی طور پر سعودی معیشت کا ایک چھوٹا حصہ تھا، اب ایک اور بڑے ترقی یافتہ شعبے کے طور پر ابھر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کبھی سعودی معیشت کا بڑا حصہ نہیں رہا، لیکن جیسے جیسے ثقافتی شعبہ کھل رہا ہے، اور سعودی عرب اپنی فلمی صنعت کو ترقی دینے کی کوشش کر رہا ہے، یہ شعبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
وسیع موضوعات پر مشتمل اس انٹرویو میں مائیکل ریٹنی نے واشنگٹن میں سعودی ولی عہد کے دورے کے حوالے سے اپنی توقعات بیان کیں اور امریکی اتحادوں کی افادیت سے متعلق زیرِگردش سوالات کا جواب دیا، خصوصاً اسرائیل اور ایران کے قطر پر حملوں، اور 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے اور غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے کی صورتحال کے تناظر میں۔
انہوں نے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ سعودی عرب میں ہونے والے ثقافتی اور تفریحی پروگرام صرف تشہیر کا ذریعہ ہیں۔
مملکت کے بارہا دوروں اور یہاں رونما ہونے والی سماجی تبدیلیوں کو قریب سے دیکھنے والے مائیکل ریٹنی نے حال ہی میں وال اسٹریٹ جرنل میں ایک مضمون بھی لکھا، جس میں انہوں نے سعودی عرب کے بڑے تفریحی پروگراموں کی میزبانی کرنے کے حق کا دفاع کیا۔
یہ مضمون، جو 23 اکتوبر کو ’Saudis Just Want to Have Fun‘ کے عنوان سے شائع ہوا، اس دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ کنسرٹس اور کامیڈی فیسٹیول صرف بین الاقوامی پی آر کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔
ستمبر اور اکتوبر میں، ریاض نے بولیوارڈ سٹی میں ایک کامیڈی فیسٹیول کی میزبانی کی، جس میں مختلف مقامی و بین الاقوامی سامعین نے شرکت کی، جن میں جِمی کار، جیک وائٹ ہال، کے ون ہارٹ، رسل پیٹرز اور امید جلیلی جیسے مشہور مزاح نگار شامل تھے۔ سعودی عرب میں عالمی اور علاقائی فنکاروں کے لائیو کنسرٹس بھی باقاعدگی سے منعقد کیے جا رہے ہیں۔

اپنی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے ریٹنی نے کہا کہ ’جیسا کہ میں نے اس مضمون میں بھی ذکر کیا، مجھے کئی واقعات، چاہے وہ کنسرٹس ہوں یا کھیلوں کے مقابلے، کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، وہ چیزیں جو 10 یا 15 برس پہلے سعودی عرب میں ناقابلِ تصور تھیں۔ اور جب آپ ناظرین میں بیٹھتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں؟‘
’آپ اپنے آس پاس ایسے سعودیوں کو دیکھتے ہیں جو اس تجربے سے بےحد خوش ہوتے ہیں۔ لیکن بیرونِ ملک، خاص طور پر مغرب میں، اور خاص طور پر امریکہ میں، لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید سعودی یہ سب غیرملکی رائے عامہ کو خوش کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ سعودی عوام کے بیچ بیٹھ کر ان کے تاثرات دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ ’انہیں غیرملکی رائے عامہ کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ اس بات کی پرواہ کرتے ہیں کہ وہ لطف اٹھا سکیں، ایک عام زندگی گزار سکیں۔‘
سابق امریکی سفیر نے بعض غیرملکی ناقدین کے رویے کو ’کچھ حد تک سرپرستانہ‘ قرار دیا جو ان سرگرمیوں کو صرف پی آر کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔
’اگر یہ واقعی پی آر مہم ہوتی تو یہ کامیاب نہ ہوتی، کیونکہ ناقدین تو پھر بھی وہی ہیں، ہے نا؟‘
مائیکل ریٹنی نے مملکت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ’ایک ایسے ملک میں تفریح اور سرگرمیوں کو جگہ دی جو پہلے اس سے محروم تھا‘ اور ساتھ ہی کہا کہ خلیجی ممالک ’چیزیں بڑے پیمانے پر کرتے ہیں، وہ بڑے نام اور بڑے ایونٹس لے کر آتے ہیں، اور میرے خیال میں یہ ان کی طاقت ہے۔ یہ ایک بہترین سرگرمی ہے۔‘

سعودی ولی عہد کے دورۂ واشنگٹن کے حوالے سے دوبارہ بات کرتے ہوئے ریٹنی نے کہا کہ انہیں توقع ہے یہ دورہ نتیجہ خیز ہو گا، اور اس بات کی نشاندہی کی کہ بات چیت کے کئی ادوار تو صدر جو بائیڈن کے دور میں ہی شروع ہو چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’جیسا کہ میری سمجھ ہے، کچھ معاملات جن پر آج بات چیت اور مذاکرات ہو رہے ہیں، وہ بائیڈن انتظامیہ ہی کے دور میں شروع ہوئے تھے، جن میں سے بعض نارملائزیشن کے عمل کا حصہ تھے۔‘
انہوں نے تین ممکنہ اہم موضوعات کی نشاندہی کی۔ پہلا دفاعی تعاون ہے۔ ’میرے خیال میں ہم ایسے مقام پر نہیں کہ امریکی سینیٹ کی منظوری کے قابل کوئی دفاعی معاہدہ ہو سکے۔ مگر کسی نہ کسی قسم کا دفاعی انتظام جو امریکہ-سعودی عسکری تعاون کو مضبوط بنائے، ممکن ہے۔‘
دوسرا شعبہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، خاص طور پر اے آئی ہے۔ ’سعودیوں کے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بہت بڑے عزائم ہیں۔ وہ امریکہ کی پیشگی اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی، خاص طور پر جدید ترین چِپس چاہتے ہیں جو ان کے اے آئی منصوبوں کی بنیاد بنیں، اور وہ اس حوالے سے کسی معاہدے کے خواہاں ہیں۔‘
تیسرا شعبہ توانائی ہے۔ ’سعودی عرب قابلِ تجدید توانائی کا بڑا سرمایہ کار ہے۔ وہ اس کا ایک حصہ ایٹمی توانائی کو سمجھتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ سول نیوکلیئر تعاون کا کوئی فریم ورک چاہتے ہیں۔‘
ریٹنی جو اسرائیل میں قائم مقام امریکی سفیر رہ چکے ہیں، نے کہا کہ تاہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول پر لانے کا معاملہ، جو کبھی سعودی-امریکی وسیع تر معاہدے کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، فی الحال ’زیرِغور نہیں‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’فی الوقت سعودیوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن پر آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک کہ اسرائیلی دفاعی فورسز غزہ میں موجود ہیں اور جب تک اسرائیلی حکومت فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کا وعدہ نہیں کرتی۔‘
غزہ کے حکام صحت کے مطابق غزہ کی جنگ میں کم از کم 69 ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، اور یہ علاقہ تباہی کا شکار ہے۔ 10 اکتوبر سے امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود وقفے وقفے سے اسرائیلی حملے جاری ہیں اور امداد کی فراہمی ناکافی ہے۔ سعودی عرب بارہا واضح کر چکا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ کی جنگ کے خاتمے کے بغیر اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہیں لائے جائیں گے۔
ریٹنی نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 سے قبل ریاض اور واشنگٹن ’نارملائزیشن پر بات چیت میں مصروف تھے، جس کے ساتھ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ اور دیگر اقدامات بھی منسلک تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ لیکن حماس کا حملہ اور غزہ میں جنگ ’خطے کا رخ بدلنے والا واقعہ‘ ثابت ہوئی۔ بات چیت تو جاری رہی مگر سعودی عرب کی نارملائزیشن کی طرف بڑھنے کا عمل رک گیا۔
سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ’یہ مذاکرات تسلسل کے ساتھ جاری تھے لیکن 7 اکتوبر نے خطے کا ماحول تبدیل کر دیا اور سعودی عرب جیسے ملک کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات آگے بڑھانا مشکل ہو گیا۔‘
’بات چیت کچھ نہ کچھ ہوتی رہی، مگر سعودیوں کے لیے آگے بڑھنے کی گنجائش مختلف ہو گئی۔ اب ایک نئی امریکی انتظامیہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے شک نہیں کہ صدر ٹرمپ چاہیں گے کہ ان مذاکرات کو وہیں سے آگے بڑھائیں جہاں وہ رکے تھے، اور کسی مرحلے پر اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان نارملائزیشن ہو۔ لیکن غزہ کے معاملے پر ہم اب بھی وہیں کھڑے ہیں۔ صورتحال اب بھی کشیدہ ہے، اگرچہ جنگ بندی ہے۔ اور میرا خیال ہے اس خاص مذاکراتی عمل کی بحالی میں وقت لگے گا۔‘
خطے میں کشیدگی ستمبر میں اس وقت مزید بڑھی جب اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سینیئر حماس رہنماؤں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملہ کیا، جو کسی خلیجی ملک میں اس کی پہلی کارروائی تھی۔ اس واقعے نے خلیجی شراکت داروں کو مضطرب کیا اور سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا۔
قطر، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ کا العدید ایئربیس واقع ہے، پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔ اگرچہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے معذرت کی، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خلیجی ملکوں کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہیں، جو اب امریکہ سے مستقل، قانونی سکیورٹی گارنٹی چاہتے ہیں۔
مائیکل ریٹنی کا کہنا ہے کہ خلیجی شراکت داروں میں قابل اعتماد ہونے کی خواہش دیرینہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوحہ پر اسرائیلی حملے نے اس رائے کو مزید مضبوط کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’جو چیز وہ چاہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ قطری چاہتے ہیں، اماراتی چاہتے ہیں، سعودی چاہتے ہیں اور دیگر چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ ان کے تعلقات دیرپا ہو، اور کئی معاملات میں اپنی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
’وہ امریکہ کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو بڑی قدر سے دیکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خطے میں ایران، دہشت گردی وغیرہ سے انہیں کیا خطرات لاحق ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’لہٰذا، میرا خیال ہے کہ انہیں بھروسہ درکار ہے۔ اور دوحہ پر اسرائیلی حملے نے اس رائے کو واقعی مضبوط کر دیا۔‘
مائیکل ریٹنی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایگزیکٹو آرڈر معاہدے کی طرح قانونی اثرات نہیں رکھتا اور یہ اس انتظامیہ کے ساتھ ختم ہو سکتا ہے۔
’ہمارے تمام خلیجی شراکت دار، سعودی عرب سمیت، کچھ ایسا چاہتے ہیں جو کسی ایک انتظامیہ تک محدود نہ ہو بلکہ بالاتر ہو۔‘

اسرائیلی حملہ ایران کے قطر پر حملے کے چند ہفتوں بعد ہوا۔ 23 جون کو ایران نے دعویٰ کیا تھا ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملوں کے جواب میں اس نے العدید ایئربیس پر میزائل حملہ کیا۔
جب پوچھا گیا کہ کیا کسی بڑے امریکی شراکت دار کو ایک ہی موسم گرما میں دو بار نشانہ بنانے سے واشنگٹن کی ساکھ متاثر ہوتی ہے،مائیکل ریٹنی نے کہا کہ اس سے خلیجی ریاستوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی سٹریٹجک اہمیت پر ازسر نو غور کرنے پر مجبور نہیں کیا، لیکن اس نے اس حوالے سے وضاحت طلب کرنے پر مجبور کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ یہ امریکی دفاعی شراکت داری کی بنیادی نوعیت کو کمزور کرتا ہے۔ لیکن اس سے یہ واضح ہو گیا کہ ہمارے تمام خلیجی شراکت دار قابل اعتماد اور واضح رویہ چاہتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ امریکہ کے حوالے سے ان کی کیا توقعات ہونی چاہئیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ قطری کسی قسم کی یقین دہانی چاہتے تھے، حتیٰ کہ ایک ایگزیکٹو آرڈر۔
انہوں نے کہا کہ سعودی بھی اتنے مضبوط معاہدے کے خواہاں ہوں گے جتنا ہوں۔ ’یہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ جب حالات خراب ہو جائیں، یا کچھ غیر معمولی یا چونکا دینے والا ہو، تو وہ جاننا چاہتے ہیں کہ امریکہ کہاں کھڑا ہوگا۔‘
جب پوچھا گیا کہ صدر جو بائیڈن اسرائیلی ممکنہ جنگی جرائم کی وارننگ کے باوجود اسرائیل پر سیاسی دباؤ کیوں نہیں ڈالے تو مائنکل ریٹنی نے کہ ‘صدر بائیڈن کا یہ خیال تھا کہ امریکہ کو اپنے اسرائیلی شراکت دار کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، اور یہی انہوں نے کیا۔‘
’اس کے ساتھ ان کا یہ بھی موقف تھا کہ تنازع ختم کیا جائے، یرغمالیوں کو رہا کیا جائے اور غزہ میں جنگ بندی کی جائے۔ مجھے شک نہیں کہ انہوں نے بہترین کوشش کی کہ ان دو اہداف کو متوازن کیا جا سکے، جنگ کو ختم کیا جائے، یرغمالیوں کو نکالا جائے۔ وہ اس امید کے ساتھ شراکت دار کے ساتھ کھڑے ہوئے کہ کسی حل کی راہ نکالی جائے تاکہ تنازع دوبارہ نہ شروع ہو اور بالآخر کوئی سیاسی تصفیہ ممکن ہو۔‘
مائیکل ریٹنی، جو صدر بائیڈن کی انتظامیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں، صدر ٹرمپ کو کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہوں نے نیتن یاہو پر دباؤ ڈال کر 10 اکتوبر کی غزہ میں جنگ بندی قبول کروائی۔
انہوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے کئی مہینوں تک جاری رہنے والی جنگ پر مایوسی ظاہر کی، حالانکہ انہوں نے کبھی اسرائیل کی حمایت بند نہیں کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس بات سے مایوس ہیں کہ جنگ اتنے طویل عرصے تک جاری رہی۔‘
مائیکل ریٹنی کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم پر دباؤ ڈالنے کے بعد وہ آخرکار جنگ بندی قبول کرنے پر آمادہ ہوئے، اور اسی جنگ بندی کے نتیجے میں یرغمالی رہا ہوئے۔

مائیکل ریٹنی نے زور دیا کہ جنگ بندی کے دوران دو ترجیحات اہم ہیں: تعمیر نو اور سلامتی۔ ہم ابھی صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دینے کے مرحلے میں ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ تعمیر نو میں ظاہر ہے کہ اربوں ڈالر کی امداد کی ضرورت ہوگی اور اس کے لیے ایک مستحکم پرامن ماحول درکار ہے۔
’دوسرا حصہ اس سے متعلق ہے، اور وہ ہے بین الاقوامی استحکام فورس کی ضرورت۔‘
’ کسی بھی قسم کی سکیورٹی کی موجودگی جو یہ یقینی بنائے کہ حماس نہ تو غزہ کے لوگوں کے لیے اور نہ ہی اسرائیل کے لیے خطرہ بنی، اور جو کچھ بھی ہو، امداد، تقسیم، تعمیر نو ایک محفوظ ماحول میں جاری رہ سکے۔‘
’ان دونوں چیزوں میں مشترک یہ ہے کہ انہیں بین الاقوامی حمایت درکار ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ امریکی انتظامیہ نے عرب یا مسلم ریاستوں کے استحکام فورس میں تعاون کے بارے میں بات کی ہے، اور خلیجی ریاستوں، خصوصاً امیر خلیجی ریاستوں، سے تعمیر نو میں تعاون کی بات کی ہے۔‘
سابق امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ ’یہ سب تھیوری میں ممکن ہے، لیکن عملی طور پر زیادہ مشکل ہے جس کا احساس بہت سے لوگوں کو ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہاں تعمیر نو میں تعاون تو کریں گے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ امیر خلیجی ریاستیں مکمل طور پر اخراجات برداشت کرنا چاہیں گی۔‘
’میں سمجھتا ہوں کہ وہ کسی مربوط بین الاقوامی کوشش میں حصہ لیں گے جو غزہ کی بحالی کے لیے ہو، لیکن وہ یہ نہیں چاہتے کہ تباہی دیکھ کر کہا جائے کہ اب یہ ان کا کام ہے کہ اس کا خرچ وہ ادا کریں۔‘
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں تعمیر نو کے دوران فوجی کارروائی نہ کرنے کی ضمانت کے حوالے سے مائیکل ریٹنی نے کہا کہ یہ مجوزہ منصوبے کا اہم حسہ ہے۔
’کوئی بھی ایسی عمارتیں دوبارہ نہیں بنانا چاہتا جو دوبارہ تباہ ہو جائیں۔ اسی لیے استحکام فورس اتنی اہم ہے۔‘
شام کے حوالے سے مائیکل ریٹنی نے کہا کہ عبوری صدر احمد الشرع، جنہوں نے دسمبر میں حیات تحریر الشام کی بغاوت کے بعد اقتدار سنبھالا، درست اقدامات کر رہے ہیں۔
1946 کے بعد شام کے پہلے سربراہ ریاست کے طور پر احمد الشرع نے رواں ہفتے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا۔
مائیکل ریٹنی نے کہا کہ ’میری نظر میں، وہ صحیح اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے انتہائی ہنگامہ خیز حالات میں اقتدار سنبھالا۔ مجھے شک نہیں کہ اگر آپ دروز، عیسائی یا علوی شامی ہیں تو آپ اس پر فکرمند ہوں گے، لیکن فی الحال وہ ذمہ داری سنجیدگی سے نبھا رہے ہیں۔
’بہتر ہے کہ ہم ان سے تعلق قائم کریں اور تعاون کریں بجائے اس کے کہ انہیں مزید الگ کریں۔‘
سابق امریکی سدیر نے شام پر پابندیاں ختم کرنے کو بالکل درست قدم قرار دیا۔ ’بین الاقوامی سطح پر ان کے ساتھ رابطہ قائم کرنا اور انہیں حمایت دینا درست ہے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ ان کے ملک کی بہت سی عوام اب بھی اس سمت کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘












