Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جاپانی اور سعودی ثقافت کا تعلق خواب جیسا‘، سوق الموسم میں تجربات کا تبادلہ

الدرعیہ کی ایک اہم اور تاریخی سائٹ الطوالع جو ماضی میں جزیرہ نمائے عرب میں اہم تجارتی حیثیت کی حامل تھی، سوق الموسم کی وجہ سے اس برس مرکزِ نگاہ بننے جا رہی ہے۔
الدرعیہ میں سوق الموسم کے آنے سے یہ ایونٹ، پرانی مارکیٹوں کے پُرجوش ماحول کی یادیں تازہ کرے گا جہاں کبھی دکانداروں اور خریداروں کی آوازیں فضا میں بلند ہُوا کرتی تھیں۔
اس سال اس ایونٹ کی ایک خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کہ سعودی عرب اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے 70 برس ہو جائیں گے۔ اس موقع پر الدرعیہ کے سوق الموسم میں جاپان اور جاپانی شہر کیوٹو کے زرخیز ورثے کو بڑی دھوم دھام سے منایا جائے گا۔
اس کے علاوہ نومبر کے اوائل میں دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے 70 برس پورے ہونے پر ریاض میں ایک تقریب بھی ہوئی تھی۔
اس تقریب میں خارجہ امور کے لیے نائب سعودی وزیر ولید الخیرجی نے دونوں ممالک کے تعلقات کی گہرائی کو نمایاں کیا تھا اور علاقائی اور عالمی خوشحالی اور استحکام کے لیے ان تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔

الدرعیہ میں ہونے والا فیسٹیول جو 9 نومبر سے شروع ہوا تھا، روزانہ منعقد ہوتا ہے اور 8 دسمبر تک جاری رہے گا۔ اس ایونٹ میں لائیو پرفارمینسز کے علاوہ سعودی اور جاپانی کھانوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو بھی لوگوں کے سامنے رکھا جا رہا ہے۔
فیسٹیول کو دیکھنے کے لیے آنے والے ایک مقامی شہری رحاف علی نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہاں پہلی بار آیا ہوں۔ یہاں پہنچنا آسان ہے۔ یہ جگہ بہت ہی زبردست ہے۔ جاپانی اور سعودی ثقافت کے درمیان جو تعلق ہے وہ خواب جیسا ہے۔ دیکھنے کے لیے یہاں مجسمے ہیں اور ظروف ہیں جو مجھے بہت ہی اچھے لگے۔
سوق کو ایک شناخت کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا جو دونوں ممالک کی ثقافت کے جمالیاتی عناصر اور ان تفاصیال کو باہم جوڑ دیتا ہے جو دونوں کی روح کی عکاس ہیں۔ اس سے دیکھنے والوں کو ایک ایسا حسیاتی تجربہ ملتا ہے جو سعودی اور جاپانی ورثے کی قدر دانی کو مزید گہرا کرتا ہے۔

سوق میں 20 دکانیں اور 15 ریستوران ہیں جبکہ طرح طرح کی سرگرمیاں بھی ہیں۔ وہاں جاری نمائشوں میں دستکاری اور روایتی لباس کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔
سوق میں کھانے پکانے کے روایتی سعودی طریقوں کے لیے ایک مقام کو مختص کر دیا گیا ہے جہاں میوزک اور فنکاروں کی پرفارمینسسز بھی ہوتی ہیں جن سے الدرعیہ کی میراث کا اظہار ہوتا ہے۔
سعودی اور جاپانی فنکاروں کے لیے کئی بُوتھ بھی قائم ہیں جہاں وہ تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں او سوق الموسم کو ایسے سٹیج میں تبدیل کر دیتے ہیں جہاں ماضی، حال سے متصل اور تاریخ، تخلیق سے ہمکنار ہو جاتی ہے۔

جاپان کے ایک روایتی کھیل میں استعمال ہونے والے سازو سامان کو بھی نمائش پر رکھا گیا ہے جسے لوگ ٹرائی کر سکتے ہیں۔ اس کھیل کا نام ’ہاگوئیتا‘ ہے۔
سوق الوسم میں ایک جاپانی کھلاڑی نے بتایا کہ اگرچہ اب یہ گیم نوجوانوں میں اتنی مقبول نہیں رہی لیکن اسے نئے سال کے موقع پر ایک سجاوٹ کے طور پر اب بھی استعمال کیا جاتا ہے جس میں خوبصورت دستکاری اور آرٹ ورک ہوتا ہے۔
اس فیسٹیول کے باعث الطوالی کے علاقے کو بھی توجہ مل رہی ہے جو کسی زمانے میں جزیرہ نمائے عرب کا ایک ممتاز مقام ہوا کرتا تھا۔ یہاں ہر جگہ سے آنے والے تجارتی قافلے اکٹھے ہوتے تھے جس کی وجہ سے الطوالی، تجارتی اور ثقافتی تبادلے کے مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔
اب یہ روایتی سرگرمی، الدرعیہ سیزن میں سوق الموسم کی وجہ سے پھر سے زندہ ہو رہی ہے۔

 

شیئر: