Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمان میں گھریلو ملازمتوں کا نیا قانون، ’پاکستانی ورکرز کے لیے دیرپا حفاظتی قدم‘

عمان میں قریباً دو لاکھ پاکستانی مختلف شعبوں میں روزگار کے سلسلے میں موجود ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
عمان میں گھریلو ملازمین کے لیے ایک نیا اور جامع قانون متعارف کروایا ہے۔
اس قانون کے ذریعے نہ صرف 2004 کے تمام پرانے ضابطے منسوخ کر دیے گئے بلکہ گھریلو شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کے حقوق، روزگار کے اصولوں اور آجر کی ذمہ داریوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِنو مرتب کیا گیا ہے۔
اس قانون کے اثرات عمان میں کام کرنے والے ان دو لاکھ پاکستانی ورکرز پر بھی پڑیں گے تاہم پاکستان کی حکومت نے ان نئے ضوابط کا خیرمقدم کیا ہے۔
اس قانون کا بنیادی مقصد گھریلو ملازمین کو مستحکم قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
 گھریلو شعبہ طویل عرصے سے خلیجی ممالک میں غیر رسمی اور غیر منظم ورک فورس پر مشتمل رہا ہے جہاں پاسپورٹ ضبط کرنے، غیرمعمولی کام کرانے، تنخواہ میں تاخیر اور کم عمر افراد کو کام پر رکھنے جیسے مسائل عام تھے۔
نئے قانون نے پہلی مرتبہ اس پورے شعبے کو واضح قانونی دائرے میں لا کر نہ صرف ملازمین بلکہ آجروں کے لیے بھی واضح ذمہ داریوں اور قابلِ نفاذ حدود کا تعین کیا ہے۔ 
اس قانون میں یہ بھی شامل ہے کہ کوئی ملازم روزانہ 12 گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کرے گا، اسے کم از کم آٹھ گھنٹے آرام ملے گا، سالانہ 21 دن کی تنخواہ سمیت چھٹی دی جائے گی اور 30 دن کی بیماری کی چھٹی بھی اس کے بنیادی حقوق میں شامل ہو گی۔
ملازم کی ذاتی آزادی کے تحفظ کے لیے پاسپورٹ یا کسی بھی شناختی دستاویز کو ضبط کرنا مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
آجر پر یہ ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے کہ وہ ملازم کی تنخواہ پابندی سے ادا کرے، مناسب رہائش اور خوراک فراہم کرے اور واپسی کے اخراجات کی ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ کرے۔
اگر آجر تنخواہ روک لے، اینڈ آف سروس بینیفٹ ادا نہ کرے یا ملازم کے سفر کے اخراجات برداشت نہ کرے تو وزارتِ محنت خود اسے عدالت میں لے جا سکتی ہے اور ملازم کو ایسے حالات میں نوکری چھوڑنے کا مکمل حق حاصل ہو گا۔ 
اسی طرح اگر کسی آجر کے زیرِ ملازمت گھریلو کارکنوں کی تعداد 50 سے زائد ہو تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا جو ملازمین کی تعداد کے مطابق بڑھتا جائے گا۔
عمان میں کتنے پاکستانی ورکرز ہیں؟ 
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عمان میں قریباً دو لاکھ پاکستانی مختلف شعبوں میں روزگار کے سلسلے میں موجود ہیں اور ان میں سے لگ بھگ 50 ہزار گھریلو ملازمین، ڈرائیور، آیا، باورچی، گارڈ اور دیگر غیر رسمی شعبوں سے وابستہ ہیں۔
دیگر پاکستانی ورکرز تعمیراتی شعبے، زرعی فارمز، ٹرانسپورٹ، سروس انڈسٹری، ٹیکنیکل ٹریڈز اور پروفیشنل مہارتوں کے تحت کام کرتے ہیں لیکن گھریلو شعبہ سب سے زیادہ حساس سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی نے اس نئے قانون کا خیر مقدم کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

گھریلو شعبے میں ملازمین کی کام کی نوعیت، آجر کے ساتھ براہِ راست تعلقات اور رہائش کی بندش انہیں استحصال کے زیادہ خطرے سے دوچار کرتی ہے۔
’قانونی تحفظ کا مضبوط ذریعہ بنے گا‘
پاکستان کی وزارت برائے اوورسیز پاکستانیز کے مطابق نیا قانون پاکستانی ورکرز کے لیے ایک بڑا اور دیرپا حفاظتی قدم ہے جو ان کے کام کے اوقات، ذاتی آزادی، بنیادی آرام، تنخواہ اور قانونی تحفظ کو پہلی مرتبہ مؤثر طریقے سے دستاویزی شکل دیتا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی نے اس نئے قانون کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ایک دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے۔ 
وزارت کے مطابق عمان میں پاکستانی ورکرز کی بڑی تعداد گھریلو اور غیر رسمی کاموں میں مصروف ہے اور ان کے لیے یہ قانون بہتر تنخواہوں، بہتر ورکنگ کنڈیشنز اور بہتر قانونی تحفظ کی ضمانت بنتا ہے۔ 
وزارت کے مطابق یہ قانون پاکستانی ورکرز کے لیے نہ صرف قانونی تحفظ کا مضبوط ذریعہ بنے گا بلکہ اس کے ذریعے عمان میں موجود قریباً دو لاکھ پاکستانیوں کی سماجی اور معاشی حیثیت بھی بہتر ہو گی۔ 

شیئر: