Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پی ٹی آئی کا احتجاج: اسلام آباد میں 1500 پولیس اہلکار تعینات، سکیورٹی سخت

پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے شہر میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ 
پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال کے بعد 28 مقامات پر پولیس ٹیمیں تعینات کر کے قیدیوں کی وین اور واٹر کینن بھی مہیا کر دی گئی ہیں۔
حکام نے مختلف مقامات پر 1500سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں جن میں خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
مظاہرین سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد پولیس کو آنسو گیس کے شیل بھی فراہم کر دیے گئے ہیں۔
راولپنڈی انتظامیہ نے بھی اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کردی ہے اور پانچ نئی چیک پوسٹیں بھی قائم کردی ہیں۔
داہگل ناکہ، گیٹ ون، گیٹ فائیو، فیکٹری ناکہ اور گورکھ پور پر اضافی نفری کو تعینات کیا گیا ہے۔
شہر کے 12 تھانوں کے ایس ایچ اوز اور خواتین اہلکاروں کو بھی سکیورٹی پر مامور کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ، خیبر پختونخوا کے وزرا اور ارکان اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر آج اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ منگل کو تمام ارکان اسمبلی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے جس کے بعد اڈیالہ جیل کے سامنے احتجاج ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’منگل کو تمام ارکان پارلیمنٹ، ارکان صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے تاکہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کیسز کو جلد سے جلد سنا جائے۔‘
پشاور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اس کے بعد عمراں خان کی بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تمام پارلیمیڑیرینز اڈیالہ جیل کے سامنے جائیں گے۔‘


تحریک انصاف کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔
پیر کو اسلام آباد اور راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے الگ الگ جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت کسی بھی قسم کے احتجاج یا جلسے جلوس کی ہرگز اجازت نہیں۔‘
دونوں شہروں کی ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیرقانونی سرگرمی کا حصہ مت بنیں۔ کسی بھی قسم کی غیرقانونی سرگرمی پر قانون فی الفور حرکت میں آئے گا۔‘
خفیہ رپورٹس کی روشنی میں دفعہ 144 نافذ کی گئی: طلال چودھری
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی والے اگر اسلام آباد ہائی کورٹ آئے یا راولپنڈی گئے تو اُن کے خلاف دفعہ 144 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔‘
منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے کیونکہ دہشت گرد سیاسی اجتماع یا کچہری پر حملہ کرتے ہیں۔‘
طلال چودھری کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان سے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ملاقات جیل مینوئل کے مطابق یا عدالتی احکامات کے تحت ہو گی۔‘

شیئر: