Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کی پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں توسیع

سٹیٹ بینک کے مطابق اس ڈیپازٹ کی مدت آٹھ دسمبر کو ختم ہو رہی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے گا اور معاشی ترقی میں تعاون کرے گا۔
جمعرات کو سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ڈیپازٹ کی مدت آٹھ دسمبر کو ختم ہو رہی تھی۔ 2021 میں پاکستان کو تین ارب ڈالرز کا ڈیپازٹ فراہم کرنے کا معاہدہ سٹیٹ بینک کے ساتھ طے پایا تھا۔ بعدازاں 2022، 2023 اور 2024 میں اس کی مدت میں توسیع کی گئی۔
یہ ڈیپازٹ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے جس کی وجہ سے زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہو گئے ہیں اور ادائیگیوں کا توازن بھی متاثر ہوا ہے۔
سٹیٹ بینک نے کہا کہ سعودی فنڈ نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت، جو آٹھ دسمبر 2025 کو ختم ہونی تھی، مزید ایک سال کے لیے بڑھا دی ہے۔
سٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ یہ توسیع سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے مسلسل تعاون کی علامت ہے، جو پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرے گی اور ملک کی معاشی ترقی میں مدد دے گی۔

سعودی عرب نے پہلی بار 2022 میں اس ڈیپازٹ میں توسیع کی تھی، جب پاکستان کئی برسوں کی مالی بدانتظامی اور موسمی آفات کے نقصانات کی وجہ سے شدید معاشی بحران کا شکار تھا۔
جون 2023 میں پاکستان تقریباً دیوالیہ ہونے کے قریب تھا لیکن آخری وقت میں عالمی مالیاتی ادارے سے ایک مالی امدادی پیکیج حاصل کر کے بحران سے بچ گیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاشی، دفاعی، سیاحت، معدنیات اور دیگر شعبوں میں دوستانہ تعلقات ہیں۔ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل معاشی حالات میں پاکستان کی مدد کی ہے۔

 

شیئر: