Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے: لبنانی صدر جوزف عون

اقوام متحدہ کا وفد لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری اور امریکی ایلچی مورگن اورٹیگس کے ساتھ۔ (فوٹو: اے ایف پی)
لبنان کے صدر جوزف عون نے جمعے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک وفد کو کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم، جن کی تنظیم ہتھیار ڈالنے سے انکاری ہے، نے لبنان کی سفارتی کوششوں کی حمایت تو کی، تاہم اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں ایک شہری نمائندے کی شمولیت کو ’غلطی‘ قرار دیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سفیروں سے ملاقات کے دوران صدر عون نے کہا کہ ’لبنانی عوام دوبارہ جنگ نہیں چاہتے، وہ بہت تکلیفیں جھیل چکے ہیں اور اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔‘
خیال رہے کہ نومبر 2024 میں ہونے والی جنگ بندی، جس کا مقصد اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ عسکری گروہ حزب اللہ کے درمیان ایک برس سے زیادہ جاری کشیدگی کو ختم کرنا تھا، کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور جنوبی لبنان کے پانچ علاقوں میں اپنی فوج رکھی ہوئی ہے۔
بیان کے مطابق صدر عون نے ’اسرائیلی فریق پر جنگ بندی پر عمل اور انخلا کے لیے دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا اور وفد سے امید ظاہر کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’لبنان بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درآمد کا پابند ہے‘ اور نمائندوں سے درخواست کی کہ وہ لبنانی فوج کی غیرریاستی گروہوں کو غیرمسلح کرنے کی کوششوں میں تعاون کریں۔
لبنانی حکومت نے اگست میں فوج کو حزب اللہ کو مکمل طور پر غیرمسلح کرنے کا حکم دیا تھا، اور فوج کے مطابق اس برس کے اختتام تک اس منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل متوقع ہے۔
اقوامِ متحدہ کا یہ وفد جمعرات کو دمشق گیا تھا، اور لبنانی صدر سے ملاقات کے بعد سنیچر کو جنوبی سرحدی علاقے کا دورہ کرے گا۔ اس دورے میں امریکی ایلچی مورگن اورٹیگس بھی ساتھ ہوں گی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب لبنانی اور اسرائیلی نمائندوں نے کئی دہائیوں بعد پہلی بار براہِ راست مذاکرات کیے ہیں۔

صدر جوزف عون نے کہا کہ ’لبنانی عوام دوبارہ جنگ نہیں چاہتے، وہ بہت تکلیفیں جھیل چکے ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

جمعرات کو لبنان کے وزیر اطلاعات پال مورکوس نے صدر عون کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مذاکرات ’مثبت‘ ہیں اور ’جنگ نہیں بلکہ مذاکرات کی زبان کو غالب ہونا چاہیے۔‘
اسی روز اسرائیل نے جنوبی لبنان کے چار قصبوں پر حملہ کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ حزب اللہ کے اسلحہ خانوں سمیت اس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ گروہ کو دوبارہ ہتھیار جمع کرنے سے روکا جا سکے۔
اقوامِ متحدہ کے امن دستوں نے ان حملوں کو ’سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی واضح خلاف ورزی‘ قرار دیا۔ یہ وہی قرارداد ہے جس نے سنہ 2006 کی لبنان-اسرائیل جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔

 

شیئر: