Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لبنان میں فضائی حملہ کر کے حماس کے 13 جنگجو ہلاک کیے: اسرائیل

اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ انہوں نے جنوبی لبنان میں فضائی حملہ کر کے ’حماس کے 13 دہشت گردوں‘ کو  ہلاک کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملے ایک فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپ پر کیے گئے۔
لبنان کے حکام کی جانب سے جمعے کو 13 ہلاکتوں سے متعلق بیان جاری کیے جانے کے بعد اسرائیلی فوج نے حملے کی تفصیل بتائی۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ ’جنوبی لبنان میں حماس کے ایک ٹرئیننگ کیمپ کو آئی ڈی ایف نے انتہائی درستی سے نشانہ بنایا اور حماس کے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔‘
اس سے قبل جمعرات کو حماس نے 13 تصاویر کے ساتھ ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’ایک خوفناک قتل عام‘ ہے جس میں متعدد بے گناہ شہری  کی موت واقع ہوئی۔‘
حماس کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں سے بیش تر نوجوان افراد تھے۔
اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ’جواد سیداوی شامل تھا، جو اسرائیل اور اس کی فوجیوں کے خلاف لبنانی علاقے سے دہشت گرد حملے کرنے کے لیے دہشت گردوں کی تربیت میں ملوث تھا۔‘
اسرائیلی فوج نے حملے میں مارے گئے 12 دیگر افراد کے ناموں کے لیے اے ایف پی کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

حماس کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں سے بیش تر نوجوان افراد تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی فوج ’لبنان میں حماس کے اڈے کے خلاف کارروائی کر رہی ہے اور حماس کے دہشت گردوں کے خلاف جہاں کہیں بھی وہ سرگرم ہوں گے، کارروائی جاری رکھے گی۔‘
منگل کو اس عسکریت پسند گروپ حماس نے لبنان میں فلسطینی کیمپوں میں اپنی فوجی تنصیبات کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے اسرائیل کے دعوؤں کو ’جھوٹ‘ قرار دیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے ایک عمارت پر حملے کی ویڈیو جاری کی لیکن حماس نے کہا کہ ’جس جگہ کو نشانہ بنایا گیا وہ ایک کھلا کھیل کا میدان تھا جہاں کیمپ کے نوجوان اکثر آتے تھے‘ اور یہ کہ ’جنہیں نشانہ بنایا گیا وہ اس وقت میدان میں موجود نوجوان لڑکوں کا ایک گروپ تھا۔‘
ساحلی شہر صیدا کے نواح میں واقع پرہجوم عین الحلوہ کیمپ لبنان کا سب سے بڑا فلسطینی پناہ گزین کیمپ ہے۔
اسرائیل نے گزشتہ نومبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شیئر: