نجران میں ’گنے‘ کی کامیاب کاشت، منافع بخش اور اقتصادی طور پر فائدہ مند
یہ آزمائشی تجربہ ’سعودی وژن 2030‘ سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے(فوٹو، ایس پی اے)
سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے نجران میں کاشتکار،گنے کی پیداوار کو ایک قابلِ عمل منصوبے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ایک کاشتکار ابراہیم شکوان نے بتایا’ ان کے سات اعشاریہ تین ہیکٹر پر واقع کھیت پر گنے کی کاشت سے انھیں فائدہ ہوا ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’علاقے میں گنے کی کاشت میں دلچپسی میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ گنے کی پیداوار کافی زیادہ ہو سکتی ہے اور اس کی وجہ سے معاشی فوائد مل سکتے ہیں۔‘
گنے کی کاشت کے لیے نجران کو تجرباتی علاقے کے طور پر منتخب کیا گیا تھا کیونکہ وہاں کی آب و ہوا معتدل ہے، مٹی میں تنوع ہے اور اس کے پہاڑی علاقوں کے آس پاس پانی کے وسائل وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔
یہ آزمائشی تجربہ ’سعودی وژن 2030‘ سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے جس میں غذائی تحفظ میں بہتری اور خود کفالت میں اضافے کو ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ممکت کے جنوب مغرب میں واقع دیگر علاقوں میں بھی، جن میں جازان، عسیر اور الباحہ شام ہیں، گنے کی کاشت کے نقطۂ نگاہ سے نجران جیسا ماحول پایا جاتا ہے۔
گنے کو قلمی شکل میں آسانی کے ساتھ کاشت کیا جا سکتا ہے جن سے بہت زیادہ تعداد میں بویائی کے قابل ٹکڑے مل جاتے ہیں۔ عام طور پر گنے کی بویائی موسمِ گرما میں کی جاتی ہے اگرچہ اسے، سال کے کسی بھی حصے میں زمین میں اگنے کے لیے لگایا جا سکتا ہے۔

کاشتکاری کے مؤثر طریقوں میں ایسی اقسام کا انتخاب کیا جاتا ہے جن میں بیماری کا مقابلہ کرنے کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ گنے کی کاشت کے لیے زمین میں مٹی کو مناسب انداز میں تیار کرنے کی بھی بہت اہمیت ہے۔ توازن کے ساتھ آبپاشی اور کھاد کا استعمال بھی حد درجہ احتیاط سے کیا جاتا ہے۔
بویائی کے تقریباً آٹھ مہینوں کے بعد فصل کی کٹائی کا وقت آتا ہے جبکہ کھاد ڈالنے کا عمل اس سے تین مہینے پہلے ہی روک دیا جاتا ہے۔

گنے میں مٹھاس کو بڑھانے اور اس میں جُوس کی کوالٹی کو بہتر بنانے کے لیے جس میں قدرتی مٹھاس، وٹامن اور معدنیات بہت مقدار میں ہوتے ہیں، فصل کی کٹائی سے بیس روز قبل، گنے کی فصل کو پانی دینا بھی بند کر دیا جاتا ہے۔
مشرقِ وسطٰی کے کئی ممالک، طویل عرصے سے گنے کی کاشت کر رہے ہیں جن میں مصر اور ایران گنے کی پیداوار والے ممالک میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
ماہرین نباتات کا خیال ہے کہ گنے کو آج سے دس ہزار سال قبل پہلی بار کاشت کیا گیا تھا اور جس مقام پر اس کا کاشت ہوئی تھی اسے آج نیوگِنی کہتے ہیں۔
