تارکینِ وطن پر مزید سختی، امریکہ نے 85 ہزار ویزے منسوخ کر دیے
تارکینِ وطن پر مزید سختی، امریکہ نے 85 ہزار ویزے منسوخ کر دیے
منگل 9 دسمبر 2025 6:26
امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے جنوری سے لے کر اب تک 85 ہزار ویزے منسوخ کیے ہیں اور یہ تعداد گذشتہ برس کی نسبت دو گنا سے زیادہ ہے۔
امریکی نیوز چینل سی این این نے محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ رواں برس جو ویزے منسوخ کیے گئے ہیں ان میں تمام ہی کیٹگریز کے افراد شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق اس تعداد میں آٹھ ہزار طلبہ کے ویزے بھی شامل ہیں اور اس اقدام کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکہ میں موجود تارکین وطن اور وہاں آنے کے خواہش مندوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
محکمہ خارجہ کے عہدیدار نے پیر کو بتایا کہ ’گذشتہ برس کے دوران کسی نشہ آور چیز کے زیراثر گاڑی چلانے، حملوں اور چوری کے واقعات قریباً نصف تعداد کی منسوخی کی وجہ بنے۔‘
محکمہ خارجہ کے عہدیدار کی جانب سے مزید ایسی وجوہات نہیں بتائی گئیں جن کی وجہ سے دیگر ویزوں کو منسوخ کیا گیا۔
تاہم اس سے قبل محکمہ خارجہ کی جانب سے بھی ویزوں کو واپس لیے جانے اور منسوخی کے حوالے سے جو جواز پیش کیے گئے تھے ان میں ’دہشت گردی کی حمایت‘ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔
ویزوں کی منسوخی کے ان واقعات نے ابتدائی طور پر بعض خدشات کو جنم دیا ہے کیونکہ انتظامیہ کی جانب سے ان طلبہ کو ہدف بنایا گیا جو غزہ میں جنگ کے خلاف مظاہروں میں نمایاں رہے۔
اکتوبر میں محکمہ خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ کچھ ایسے افراد کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے جنہوں نے مبینہ طور پر چارلی کرک کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
یہ تازہ ترین اعدادوشمار محکمہ خارجہ کی جانب سے اگست میں جاری کی گئی ان تفصیلات کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں بتایا گیا تھا کہ ’ایجنسی نے ان تمام 5 کروڑ 50 لاکھ سے زائد غیرملکیوں کی مسلسل جانچ کا منصوبہ بنایا ہے جن کے پاس امریکہ کے مصدقہ ویزے بھی ہیں۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’مقررہ بھی ممکنہ نااہلی کے اشارے کے تحت کسی بھی ویزے کو منسوخ کر سکتا ہے جن میں مقررہ مدت سے زائد قیام بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔‘
اس کے علاوہ مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے، عوام کے لیے خطرہ ہونے، کسی بھی قسم کی دہشت گردی میں ملوث ہونے یا کسی دہشت گرد تنظیم کو مدد فراہم کرنے کے نکات شامل ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق جن افراد کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں ان میں آٹھ ہزار طلبہ بھی شامل ہیں (فائل فوٹو: گیٹی امیجز)
بیان کے مطابق ’ہم جانچ کے لیے تمام دستیاب معلومات کا جائزہ لیتے ہیں اور ان میں قانونی معاملات، امیگریشن ریکارڈ اور کوئی بھی ایسی اطلاع شامل ہو سکتی ہے جو ویزے کے اجرا کے بعد سامنے آئی ہو اور ممکنہ طور پر نااہلی کا باعث بن سکتی ہو۔‘
اگست میں ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن قوانین مزید سخت کرتے ہوئے صحافیوں اور غیرملکی طلبہ کے لیے امریکہ میں قیام کی مدت سے متعلق نئی تبدیلیاں متعارف کروائی تھیں۔
ان کے تحت غیرملکی طلبہ سٹوڈنٹ ویزہ پر چار سال سے زیادہ عرصے کے لیے امریکہ میں نہیں رہ سکیں گے جبکہ غیرملکی صحافیوں کے امریکہ میں رہنے کی مدت کو 240 دنوں کے لیے متعین کیا گیا، تاہم وہ مزید 240 روز کی توسیع کے لیے درخواست دائر کر سکتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد محکمہ خارجہ نے اس معیار کو مزید سخت کیا تھا جس کے تحت درخواست دہندگان کی زیادہ جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے اور ویزہ دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی صدارت کا حلف اٹھایا اور اس کے بعد ان کی انتظامیہ نے 19 ممالک کے پاسپورٹس پر امریکہ کے سفر پر پابندی عائد کردی۔
رواں برس نومبر میں افغان شہری کے ہاتھوں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس پابندی کا دائرہ 30 سے 32 ممالک تک بڑھانے کی سفارش کی ہے۔
اس واقعے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے پاسپورٹ پر سفر کرنے والوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے اور انہوں نے امیگریشن کے نظام کو مزید سخت کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔