ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن، امریکہ کی 68 کروڑ ڈالر کے پروگرام کی منظوری
ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن، امریکہ کی 68 کروڑ ڈالر کے پروگرام کی منظوری
جمعرات 11 دسمبر 2025 10:54
امریکہ نے پاکستان کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور معاونت کی فروخت کی منظوری دے دی ہے جس کی مجموعی مالیت 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے۔
عرب نیوز کے مطابق امریکی دفاعی سلامتی تعاون ایجنسی کے کانگریس کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے اسلام آباد موجودہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں واشنگٹن کے ساتھ شراکت داری کر سکے گا۔
خط جس پر آٹھ دسمبر کی تاریخ درج ہے، میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد نے 92 لنک 16 سسٹمز (مواصلات/ڈیٹا شیئرنگ نیٹ ورکس) اور چھ ایم کے 82 انیرٹ 500 پاؤنڈ وزنی عام مقصد کے لیے استعمال ہونے والے بم خریدنے کی درخواست کی ہے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس فروخت میں غیر اہم دفاعی سازوسامان بھی شامل ہے جیسے کہ طیارے کے پُرزے اور سافٹ ویئر کی اپ گریڈیشن، درست نیویگیشن کے آلات، معلومات کو خفیہ اور محفوظ رکھنے کے آلات، دیگر ہتھیاروں کی تنصیبات اور طیارے کو جانچنے کے آلات جیسے کہ اضافی پرزے اور مرمت کا سامان۔
کانگریس کو بھیجے گئے خط کے متن کے مطابق ’مجموعی لاگت 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ مجوزہ فروخت امریکہ کے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کے حصول میں معاونت کرے گی۔ اس سے پاکستان کو موجودہ اور مستقبل کے انسداد دہشت گردی آپریشنز میں امریکی اور شریک فورسز کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے کا موقع ملے گا۔‘
خط کے مطابق یہ فروخت پاکستان کے ایف-16 بیڑے کو جدید بنانے، اس کی حفاظت بہتر کرنے اور اسے موجودہ و مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے قابل بنانے میں معاون ہوگی۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنی دفاعی طاقت کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
یہ مجوزہ فروخت ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل آصف منیر کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں کے بعد پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات مضبوط کیے ہیں۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فروخت بلاک 52 اور مڈ لائف اپ گریڈ ایف 16 بیڑے کو اپ ڈیٹ کر کے پاکستان کی صلاحیت کو برقرار رکھے گی تاکہ وہ موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹ سکے۔
خط کے متن کے مطابق ’یہ اپ ڈیٹس پاکستان ایئر فورس اور امریکی ایئر فورس کے درمیان جنگی آپریشنز، مشقوں اور تربیت میں زیادہ ہم آہنگی فراہم کریں گی جبکہ مرمت اور بحالی سے طیارے کی عمر 2040 تک بڑھ جائے گی۔‘
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنی دفاعی طاقت کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ’اس سامان کی مجوزہ فروخت سے خطے میں بنیادی فوجی توازن تبدیل نہیں ہوگا۔‘
خط کے آخر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ تمام دفاعی ساز و سامان کو پاکستان کی حکومت کو فراہم اور برآمد کرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔