Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش: عام انتخابات 12 فروری 2026 کو کرانے کا اعلان

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتخابات کے دن جمہوری اصلاحات کے چارٹر پر ریفرنڈم بھی منعقد کیا جائے گا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ملک میں عام انتخابات 12 فروری 2026 کو ہوں گے۔
یہ انتخابات گزشتہ سال سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کو طلبہ کی قیادت میں ہونے والی احتجاجی تحریک کے ذریعے ہٹائے جانے کے بعد پہلے عام انتخابات ہوں گے۔
خبر رساں اے ایف پی کے مطابق انتخاب کی تاریخ کا اعلان چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے ٹیلی وژن پر خطاب میں کیا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتخابات کے دن جمہوری اصلاحات کے چارٹر پر ریفرنڈم بھی منعقد کیا جائے گا۔
مسلم اکثریتی 17 کروڑ آبادی کے اس ملک میں سیاسی انتشار اس وقت سے جاری ہے جب اگست 2024 میں حسینہ واجد کو معزول کر دیا گیا، اور ان کی 15 سالہ آمرانہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔
ان کی سابق حکمران جماعت، عوامی لیگ، کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔
ملک کے عبوری رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس انتخابات کے بعد مستعفی ہو جائیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ’انتخابی عمل میں ہم تمام سیاسی جماعتوں، مخالف امیدواروں اور ووٹروں کی مخلصانہ شرکت اور فعال تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ آئندہ ہونے والے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کو کامیاب بنا کر ہماری جمہوری جدوجہد میں تاریخی کردار ادا کریں۔‘
تین مرتبہ کی سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کی جماعت، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی،  کو انتخابات میں کامیابی کے لیے فیورٹ سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم خالدہ ضیا بیمار ہیں اس وقت ڈھاکہ کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرِ علاج ہیں، جبکہ ان کے صاحبزادے اور سیاسی جانشین طارق رحمان 17 سال سے برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
80  سالہ خالدہ ضیا طویل عرصے سے مختلف امراض میں مبتلا رہی ہیں، جن میں وہ بیماریاں بھی شامل ہیں جن کا سامنا انہیں حسینہ کے دورِ حکومت میں قید کے دوران کرنا پڑا۔
60  سالہ طارق رحمان، جنہیں بنگلہ دیش میں طارق ضیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی انتقام کے باعث لندن منتقل ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں گے اور اب بھی وزارتِ عظمیٰ کے لیے مضبوط امیدوار تصور کیے جاتے ہیں، تاہم وہ اب تک اپنی بیمار والدہ کی عیادت کے لیے واپس نہیں آئے۔

’نیا مستقبل‘

ووٹروں کو 300 حلقوں سے پارلیمنٹ کے ارکان کا انتخاب کرنا ہوگا۔ خواتین کے لیے اضافی 50 نشستیں مخصوص ہیں جو ہر جماعت کی حاصل کردہ نشستوں کے تناسب سے تقسیم کی جاتی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، ملک میں تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں 40 لاکھ سے زائد نئے ووٹر بھی شامل ہیں۔
85  سالہ یونس نے انتخابی تاریخ کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’بنگلہ دیش ایک نئے مستقبل کی دہلیز پر کھڑا ہے۔‘
’مجھے پختہ یقین ہے کہ آپ کی فعال اور ذمہ دارانہ شمولیت سے ہم ایک جدید، منصفانہ اور خوشحال ملک تعمیر کرنے میں کامیاب ہوں گے۔‘

شیئر: