Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دہلی: سفارت خانے کے باہر مظاہرے، بنگلہ دیش نے انڈین ہائی کمشنر کو طلب کر لیا

شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش سیاسی بحران کا شکار ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
بنگلہ دیش نے منگل کو انڈیا کے اعلٰی سفارتی نمائندے کو طلب کر لیا، جبکہ نئی دہلی میں اس کے ہائی کمیشن کے باہر احتجاج ہوئے ہیں۔ یہ احتجاج ڈھاکہ میں ایک ہندو ورکر کے ہجوم کے ہاتھوں قتل کے خلاف کیے گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گارمنٹس فیکڑی میں کام کرنے والے اس ہندو ورکر پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا گیا تھا اور 18 دسمبر کو ہجوم نے اسے مار دیا۔ مسلم اکثریتی آبادی والے ملک بنگلہ دیش میں انڈیا مخالف جذبات میں اضافے کے تناظر میں یہ واقعہ پیش آیا۔ قتل کے الزام میں اب تک سات مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
مذکورہ واقعے کے خلاف منگل کو سینکڑوں مظاہرین نئی دہلی میں بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کے قریب جمع ہوئے۔ انہوں نے زعفرانی جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ ایک بینر پر درج تھا ’بنگلہ دیش میں ہندوؤں کا قتل بند کرو۔‘
وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے رکن اور مظاہرین میں شامل 37 سالہ پونیت گوتم نے کہا کہ ’ہندو، بنگلہ دیش کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ غلط راستہ اختیار کر رہا ہے۔‘
وی ایچ پی کے کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان ڈھاکہ کے سفارتی مشن کے باہر اس وقت جھڑپیں بھی ہوئیں، جب ہجوم نے عمارت سے تقریباً 300 میٹر کے فاصلے پر لگائی گئی رکاوٹوں کو دھکیلنے کی کوشش کی۔
اس سے قبل منگل ہی کو بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے انڈین ہائی کمشنر پرنے ورما کو طلب کر کے اپنے ویزا مراکز کے باہر ہونے والے سابقہ مظاہروں پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا۔
وزارت کے بیان میں گذشتہ ہفتے نئی دہلی اور سلی گڑی میں واقع ویزا مراکز کے باہر پیش آنے والے ’افسوسناک واقعات‘ اور توڑ پھوڑ کا حوالہ دیا گیا۔ تاہم انڈیا نے توڑ پھوڑ کی خبروں کو ’گمراہ کن پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات اس وقت سے بگڑتے جا رہے ہیں جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ گذشتہ برس جمہوریت نواز عوامی تحریک کے بعد ملک چھوڑ کر انڈیا چلی گئیں۔

وی ایچ پی کے کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان ڈھاکہ کے سفارتی مشن کے باہر جھڑپیں بھی ہوئیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی ڈھاکہ کی جانب سے شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواستوں پر غور کر رہا ہے، جنہیں تحریک کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کی منصوبہ بندی کے الزام میں عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔
شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش سیاسی بحران کا شکار ہے، جبکہ آئندہ برس ہونے والے انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے دوران تشدد کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
اس ماہ پارلیمنٹ کے امیدوار اور انڈیا کے سخت ناقد شریف عثمان ہادی کو ڈھاکہ میں نقاب پوش حملہ آوروں نے گولی مار دی۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حملہ آور انڈیا فرار ہو گئے ہیں۔
اس قتل کے بعد ڈھاکہ میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جن کے دوران مشتعل افراد نے کئی عمارتوں کو نذرِآتش کر دیا، جن میں دو بڑے اخبارات، جنہیں انڈین نواز سمجھا جاتا ہے، اور ایک نمایاں ثقافتی ادارہ بھی شامل تھا۔
ہجوم نے ساحلی شہر چٹاگانگ میں انڈین ہائی کمیشن پر بھی پتھراؤ کیا، جس کے بعد انڈیا نے وہاں ویزا سروس معطل کر دی ہے۔

شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد ڈھاکہ میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پیر کے روز ڈھاکہ نے نئی دہلی میں عارضی طور پر ویزا سروسز معطل کر دیں۔
روس نے دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تعلقات بہتر کریں۔
ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق بنگلہ دیش میں روس کے سفیر الیگزینڈر جی خوزن نے کہا کہ ’جتنی جلدی یہ ہو جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔‘

 

شیئر: