Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کی افواج اور عوام میں تفرقہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کور کمانڈرز کانفرنس

پاکستان کی فوج کی کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’مسلح افواج اور پاکستان کی عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں۔‘
بدھ کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیرصدارت 273ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکا نے ’حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں اپنی  جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں اور غیرملکی ایما پر دہشتگردی کے خلاف مادر وطن کا دفاع  کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔‘
بیان کے مطابق ’آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے  پاکستان کی مسلح افواج کی غیرمتزلزل جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔‘
فیلڈ مارشل نے شرکا سے خطاب میں کہا کہ ’حکومت اور فوج  کی مشترکہ کوششوں  اور پاکستانی عوام کی ثابت قدم حمایت کے باعث ہمارا ملک بتدریج مگر یقینی طور پر استحکام، وسیع تر مواقع اور عزت و وقار کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘
فورم نے اندرونی و بیرونی سلامتی کی صورتحال کا جامع جائزہ لیتے ہوئے ملک کو درپیش خطرات اور آپریشنل تیاریوں پر  زور دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ’انڈیا کی سرپرستی میں تمام دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاونین سے فیصلہ کن اور بغیر کسی رعایت کے نمٹا جائے گا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فورم نے دہشت گردی، جرائم اور سیاسی مفادات کے درمیان گٹھ جوڑ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے وہ عناصر سیاسی ہوں یا کوئی بھی۔‘
بیان کے مطابق فورم نے بلوچستان حکومت کے خصوصی ترقیاتی اقدامات کو سراہا جو مقامی سطح پر عوام کو بااختیار بنانے اور سماجی روابط کے ذریعے گورننس سے جڑے دہشت گردی کے عوامل کا خاتمہ کرتے ہیں۔

 ’کانفرنس کے شرکا نے پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے قومی ایکشن پلان کے مطابق دیگر علاقوں میں بھی اسی طرز کے عوامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔‘
بیان کے مطابق فورم نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور ان کی جائز جدوجہد کے لیے پاکستان کی ثابت قدمی کا اعادہ کیا جبکہ مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی موقف کی بھی توثیق کی۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’چیف آف ڈیفنس فورسز نے فوج کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مستقل تحفظ کرتے ہوئے کنونشنل اور سب کنونشنل سے لے کر ہائبرڈ اور غیرمتناسب چیلنجز تک کے خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔‘

 

شیئر: