پاکستان کو وسیع اور مستقل چیلنجز کا سامنا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
پاکستان کو وسیع اور مستقل چیلنجز کا سامنا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
منگل 23 دسمبر 2025 16:43
پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک کو وسیع اور مستقل چیلنجز کا سامنا ہے۔
منگل کو راولپنڈی میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہیں جاری نیشنل سکیورٹی اور وار کورس کے سول اور ملٹری شرکاء کے پینل نے قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور ان پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات کے بارے میں اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل نے پیچیدہ اور ابھرتے ہوئے عالمی، علاقائی اور داخلی سلامتی کی صورتحال کا خاکہ پیش کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ ملک کو وسیع اور مستقل چیلنجز کا سامنا ہے۔
بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ چیلنجز روایتی، انٹیلیجنس، سائبر، معلومات، فوجی، اقتصادی اور دیگر شعبوں پر محیط ہیں جن کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع کثیر جہتی تیاری، قومی طاقت کے تمام عناصر کے درمیان مسلسل موافقت اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’فیلڈ مارشل نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دشمن عناصر بالواسطہ اور مبہم طریقے اختیار کر رہے ہیں، جس میں پراکسی کا استعمال ظاہری محاذ آرائی کے بجائے اندرونی فالٹ لائنوں سے فائدہ اٹھانا بھی شامل ہے۔‘
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے لیڈروں کو تربیت دی جانی چاہیے اور ایسے کثیرالجہتی علمی چیلنجوں کو پہچاننے، ان کا اندازہ لگانے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے چوکنا رہنا چاہیے۔
بیان کے مطابق ’فیلڈ مارشل نے آج کے مسابقتی اور پھیلے ہوئے سکیورٹی ماحول میں غیریقینی کے دوران کام کرنے کے لیے واضح اور فکری لچک کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔‘
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’فیلڈ مارشل نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے اُس کردار کی بھی تعریف کی جس کے تحت یہاں حکمت عملی کے ماہرین تیار کیے جاتے ہیں جو سخت تربیت اور علمی بصیرت کو موثر پالیسی کی تشکیل اور آپریشنل نتائج میں بدلنے کے قابل ہیں۔‘
چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں دیگر کے ہمراہ گروپ فوٹو۔ (آئی ایس پی آر)
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیشہ ورانہ فوجی تعلیم ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے، مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور طویل مدتی مضبوط قومی ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر فیلڈ مارشل نے ماہرین کے تجزیے اور اخذ کیے نتائج کو سراہا اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ دیانتداری، نظم و ضبط اور بے لوث خدمت کی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے چوکس اور ثابت قدم رہیں۔
چیف آف ڈینفس فورسز کی آمد پر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر لیفٹننٹ جنرل بابر افتخار نے اُن کا استقبال کیا۔