جاپان کا سمندر کی تہہ سے نایاب معدنیات نکالنے کا ’دنیا کا پہلا‘ منصوبہ
جاپان کا سمندر کی تہہ سے نایاب معدنیات نکالنے کا ’دنیا کا پہلا‘ منصوبہ
جمعرات 25 دسمبر 2025 7:06
منامی توری جزیرہ ٹوکیو سے تقریباً 1900 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے (فوٹو:یو ایس ایئرفورس)
جاپان کے منامی توری جزیرے کے ساحلی علاقے میں گہرے سمندر کی تہہ سے نایاب معدنیات سے بھرپور کیچڑ نکالنے کی آزمائشی کان کنی کرے گا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق منامی توری جزیرہ ٹوکیو سے تقریباً 1900 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ کان کنی کا عمل 11 جنوری سے 14 فروری تک جاری رہے گا۔
یہ اپنی نوعیت کی دنیا کی پہلی آزمائشی کان کنی ہوگی جس میں تقریباً چھ ہزار میٹر گہرائی سے نایاب معدنیات سے بھرپور کیچڑ کو سمندر کی تہہ سے جہاز تک منتقل کیا جائے گا۔
چین، جو نایاب معدنیات کا سب سے بڑا سپلائر ہے، برآمدات پر پابندیاں سخت کر رہا ہے۔ اسی لیے ٹوکیو اپنے مغربی اتحادیوں کی طرح اہم معدنیات کی مستقل فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
کابینہ آفس کے جدید سمندری تقریاتی ملکی پلیٹ فارم کے پروگرام ڈائریکٹر شوئیچی ایشی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا ایک مقصد یہ ہے کہ ملکی سطح پر پیدا ہونے والی نایاب معدنیات کی سپلائی چین قائم کی جا سکے تاکہ صنعت کے لیے ضروری معدنیات کی مستقل فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
جاپانی حکومت سمندری اور معاشی تحفظ کو مضبوط بنانے کی وسیع تر کوششوں کے تحت اس قومی منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔
جنوری میں ہونے والے اس آزمائشی مرحلے میں گہرے سمندر کی کان کنی کے نظام کو جوڑنے اور اس کی صلاحیت جانچنے پر توجہ دی جائے گی کہ آیا یہ روزانہ 350 میٹرک ٹن نایاب معدنیات والی کیچڑ اوپر لا سکتا ہے یا نہیں۔
اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو فروری 2027 میں وسیع پیمانے پر کان کنی کا تجربہ کیا جائے گا (فوٹو: روئٹرز)
اس عمل کے دوران ماحولیاتی اثرات پر جہاز پر بھی اور سمندر کی تہہ میں بھی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔
ابھی تک پیداوار کا کوئی ہدف مقرر نہیں کیا گیا، لیکن اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو فروری 2027 میں وسیع پیمانے پر کان کنی کا تجربہ کیا جائے گا۔
پروگرام ڈائریکٹر شوئیچی ایشی کے مطابق حکومت کے تعاون سے چلنے والے اس منصوبے پر 2018 سے اب تک تقریباً 256 ملین ڈالرخرچ ہو چکے ہیں، تاہم معدنی ذخائر کی اندازاً مقدار ظاہر نہیں کی گئی۔
پروگرام ڈائریکٹر شوئیچی ایشی نے یہ بھی بتایا کہ ریسرچ کے لیے جب ان کا جہاز 27 مئی سے 25 جون تک منامی توری جزیرے کے گرد جاپان کے خصوصی معاشی زون میں نایاب معدنیات کاسروے کر رہا تھا، تو سات جون کو چین کا بحری بیڑا ان پانیوں میں داخل ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ اس طرح کی دھمکی آمیز کارروائیاں کی گئیں، حالانکہ ان کی سرگرمیاں صرف جاپان کے خصوصی معاشی زون میں سمندری وسائل کے سروے تک محدود تھیں۔
چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس کے فوجی جہازوں کی سرگرمیاں بین الاقوامی قانون اور عالمی معاہدوں کے مطابق ہیں۔
چین نے روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کے جواب میں جاپان سے کہا کہ وہ خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور محاذ آرائی کو ہوا دینے سے گریز کرے۔