Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اب بھی روح کانپ جاتی ہے‘، پشاور چرچ حملہ مسیحی برادری کے لیے آج بھی ڈراؤنا خواب

آل سینٹس چرچ پشاور میں ہونے والے حملے میں 113 افراد ہلاک ہوئے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پشاور میں 2013 میں چرچ پر ہونے والے حملے کے 12 سال بعد پولیس سنائپرز کی کڑی نگرانی میں متعدد چیک پوسٹوں سے گزرتے ہوئے سیکڑوں مسیحی کرسمس کی عبادت کے لیے جمع ہوئے۔
آل سینٹس چرچ پشاور کی دیوار پر دھات کے ٹکڑوں کے نشانات آج بھی موجود ہیں، اس یادگار کے قریب جہاں حملے میں مارے جانے والوں کے نام درج ہیں۔ یہ چرچ خیبر پختونخوا کے پرتشدد صوبے میں واقع ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس حملے میں اپنے والدین کے ساتھ زخمی ہونے والی 30 سالہ نتاشا ذوالفقار نے بتایا کہ ’آج بھی جب میں بارہ سال پہلے کے اس دن کو یاد کرتی ہوں تو میری روح کانپ اٹھتی ہے۔‘
ان کی دائیں کلائی پر آج بھی زخم کا نشان موجود ہے۔
ایک شدت پسند گروہ نے 22 ستمبر 2013 کے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 113 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہر طرف خون ہی خون تھا۔ چرچ کا لان لاشوں سے بھرا ہوا تھا۔‘
پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں مسیحی دو فیصد سے بھی کم ہیں اور طویل عرصے سے قدامت پسند مسلم ملک میں امتیازی سلوک کا شکار رہے ہیں، اکثر کم تنخواہ والی ملازمتوں تک محدود اور کبھی کبھار توہینِ مذہب کے الزامات کا نشانہ بنتے ہیں۔
دیگر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ یہ برادری برسوں سے اسلامی شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہے۔
آج آل سینٹس چرچ کے اندر ایک دیوار پر لگی گھڑی، جو دھماکے کا وقت 11:43 بجے دکھا رہی ہے، اپنی ٹوٹی ہوئی حالت میں محفوظ ہے، اس کا شیشہ چکناچور ہے۔

عزیکا وکٹر صادق نے کہا کہ ’غم کی شدت کبھی کم نہیں ہو سکتی۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

چرچ کے نگران ایمانوئل غوری نے کہا کہ ’دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کے نشانات آج بھی اس دیوار پر موجود ہیں اور یہ نشانات صرف دیوار پر نہیں بلکہ ہمارے دلوں پر بھی نقش ہیں۔‘
اسلام آباد میں کرسمس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے کہا۔ ’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی اقلیتی فرد کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی تو قانون پوری قوت کے ساتھ جواب دے گا۔‘
عزیکا وکٹر صادق کے والد دھماکے میں مارے گئے اور والدہ زخمی ہوئیں، انہوں نے کہا کہ ’غم کی شدت کبھی کم نہیں ہو سکتی۔ جب بھی میں چرچ آتی ہوں، سارا واقعہ میری آنکھوں کے سامنے دوبارہ چلنے لگتا ہے۔‘

 

شیئر: