اسرائیل صومالی لینڈ کو خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا
اسرائیل صومالی لینڈ کو خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا
جمعہ 26 دسمبر 2025 20:36
صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبدالله اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات کر رہے ہیں۔ (فوٹو: اسرائیلی گورنمنٹ پریس آفس)
اسرائیل خود ساختہ جمہوریہ صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل کا یہ فیصلہ علاقائی توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے اور صومالیہ کی جانب سے اس کی علیحدگی کی طویل مخالفت کو آزمائش میں ڈال سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعے کو کہا کہ اسرائیل فوری طور پر صومالی لینڈ کے ساتھ زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت کے شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبدالله کو مبارک باد دی، ان کی قیادت کی تعریف کی اور انہیں اسرائیل کے دورے کی دعوت دی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ یہ اعلان ’ابراہیم معاہدوں کی روح کے مطابق ہے، جو صدر ٹرمپ کے انیشیٹو پر دستخط کیے گئے تھے۔‘
سنہ 2020 میں طے پانے والے یہ معاہدے صدر ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کی ثالثی میں ہوئے تھے، جن کے تحت اسرائیل نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے، جبکہ بعد میں دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوئے۔
اسرائیلی بیان کے مطابق نیتن یاہو، وزیرِ خارجہ جدعون سار اور صومالی لینڈ کے صدر نے باہمی اعتراف سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
صدر عبدالرحمن محمد عبدالله نے ایک بیان میں کہا کہ صومالی لینڈ ابراہیم معاہدوں میں شامل ہو گا، جسے انہوں نے علاقائی اور عالمی امن کی جانب ایک قدم قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صومالی لینڈ شراکت داری کے فروغ، باہمی خوشحالی میں اضافے اور مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں استحکام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
دوسری جانب مصر نے کہا کہ وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے جمعے کو صومالیہ، ترکیہ اور جبوتی کے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں اسرائیل کے اعلان کے بعد شاخ افریقہ میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کو ’خطرناک پیش رفت‘ قرار دیا گیا۔
صومالی لینڈ سنہ 1991 سے مؤثر خودمختاری اور نسبتاً امن و استحکام سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
مصری وزارتِ خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی، صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، اور خبردار کیا کہ علیحدہ علاقوں کو تسلیم کرنا بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
صومالی لینڈ سنہ 1991 سے، جب صومالیہ خانہ جنگی کا شکار ہوا تھا، مؤثر خودمختاری اور نسبتاً امن و استحکام سے لطف اندوز ہو رہا ہے، تاہم اس علیحدہ خطے کو اب تک کسی اور ملک کی جانب سے باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
گذشتہ برسوں کے دوران صومالیہ نے بین الاقوامی برادری کو کسی بھی ملک کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے خلاف متحرک کیا ہے۔
صومالی لینڈ کو امید ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بعد دیگر ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے، جس سے اس کی سفارتی حیثیت مضبوط اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھے گی۔
مارچ میں صومالیہ اور اس کے علیحدہ خطے صومالی لینڈ نے اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ انہیں امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے غزہ سے فلسطینیوں کی آبادکاری سے متعلق کوئی تجویز موصول ہوئی ہو، جبکہ موغادیشو نے کہا تھا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام کو دوٹوک طور پر مسترد کرتا ہے۔