Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سندھ طاس معاہدے کی ’معطلی‘ کے بعد انڈیا کا دریائے چناب پر نیا بجلی گھر بنانے کا فیصلہ

سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب کے دریاؤں پر حقوق حاصل تھے (فائل فوٹو: روئٹرز)
انڈیا کی وزارتِ ماحولیات کے ایک پینل نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں دریائے چناب پر 260 میگاواٹ کے ’دول ہستی سٹیج ٹو‘ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
انڈین اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں برس اپریل میں پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے ساتھ دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر رکھا ہے۔
ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس سے متعلق ماہرین کی کمیٹی نے رواں ماہ کے اوائل میں منعقدہ اپنے 45 ویں اجلاس کے دوران اس منصوبے کی منظوری دی جس کے بعد اب 3200 کروڑ انڈین روپے سے زائد کی لاگت والے اس ’رن آف دی ریور‘ پراجیکٹ کے لیے تعمیراتی ٹینڈرز جاری کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اجلاس کی کارروائی کے مطابق کمیٹی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اگرچہ دریائے چناب کے طاس کا پانی 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے اور اس منصوبے کے ابتدائی پیرامیٹرز بھی اسی معاہدے کی روشنی میں طے کیے گئے تھے تاہم اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔
پینل نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا کہ 23 اپریل 2025 سے سندھ طاس معاہدہ معطل ہے جس کے بعد اب انڈیا اس خطے میں پانی کے ذخائر اور بجلی کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ جب تک سندھ طاس معاہدہ فعال تھا، پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب کے دریاؤں پر حقوق حاصل تھے جبکہ انڈیا کو راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں کے استعمال کا حق دیا گیا تھا۔
اب اس معاہدے کے معطل ہونے کے بعد انڈیا کی حکومت انڈس بیسن میں متعدد بڑے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے جن میں سوالکوٹ، رتلے، برسر، پکل دل، کوار، کیرو اور کرتھائی ون اور ٹو شامل ہیں۔
’دول ہستی سٹیج ٹو‘ دراصل 390 میگاواٹ کے پہلے سے فعال دول ہستی پاور سٹیشن کی توسیع ہے جسے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن سنہ 2007 سے چلا رہی ہے۔
نئے منصوبے کے تحت سٹیج ون پاور سٹیشن سے پانی کو تین ہزار 685 میٹر طویل اور 8.5 میٹر قطر کی ایک علیحدہ سرنگ کے ذریعے موڑ کر سٹیج ٹو کے لیے گھوڑے کی نال کی شکل کا تالاب بنایا جائے گا۔
اس زیرِ زمین بجلی گھر میں 130 میگاواٹ کے دو یونٹس نصب کیے جائیں گے جن کی کل پیداواری صلاحیت 260 میگاواٹ ہو گی۔
اس منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 60.3 ہیکٹر زمین درکار ہے جس میں ضلع کشتواڑ کے دو دیہاتوں، بنزوار اور پالمار کی 8.27 ہیکٹر نجی اراضی بھی شامل ہے جسے حاصل کرنے کے عمل کو اب تیز کر دیا گیا ہے۔

 

شیئر: