پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکومت پولیس کو مزید طاقت ور بنانے کے لیے قانون میں ترمیم لا رہی ہے۔
پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک ایسے قانون کا مسودہ پیش کیا گیا جو صوبائی پولیس اور انتظامیہ کو ایسے اختیارات فراہم کر رہا ہے جو اس سے پہلے موجود نہیں تھے۔
اس نئے مجوزہ قانون کے تحت ہائی سکیورٹی زونز بنائے جا رہے ہیں جس کے تحت احتجاج اور جلسوں پر سخت پابندیاں لگائی جا سکیں گی اور خلاف ورزی کرنے والے کو تین برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
پولیس آرڈر (دوسری ترمیم) ایکٹ 2025 جس سے پولیس کی ایک نئی رائٹس مینجمنٹ یونٹ یعنی ہنگاموں سے نمٹنے والی فورس بھی قائم جا رہی ہے جس کا سربراہ ایک ایڈیشنل آئی جی ہو گا۔
مزید پڑھیں
-
پنجاب میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر مقدمات ’کریمینل ریکارڈ‘؟Node ID: 897999
پنجاب حکومت کے نئے مجوزہ قانون کے مطابق کسی بھی علاقے کو حساس قرار دے کر جلسوں، جلوسوں اور احتجاج پر پابندی لگائی جا سکے گی۔
ضلعی ڈپٹی کمشنر کسی بھی جگہ کو ہائی سکیورٹی زون قرار دے گا جہاں عوامی اجتماعات کے لیے پیشگی اجازت لازمی ہو گی۔ بغیر اجازت اجتماع کی صورت میں تین برس تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے جبکہ عام علاقوں میں بلااجازت اجتماع پر ایک برس تک قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی کارروائی بھی شامل ہے۔
پولیس کو اجتماعات میں استعمال ہونے والا سامان ضبط کرنے کا حق بھی دیا جا رہا ہے۔
پنجاب اسمبلی کی ہوم کمیٹی نے پولیس آرڈر 2002 میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت ایک انٹی رائٹس یونٹس کے نام پر پولیس کا ایک خصوصی ڈھانچہ کی قائم کیا جا رہا ہے یہ یونٹ جدید تربیت اور ہتھیاروں سے لیس ہو گا اور صوبے بھر میں فسادات اور غیرقانونی احتجاج کے خلاف کارروائی کرے گی۔
اس قانون میں ’رائٹس زون‘ کا تصور بھی شامل ہے جس کے تحت ضلعی انتظامیہ اور پولیس مل کر کسی علاقے کو حساس قرار دے سکتے ہیں، شہریوں کو باہر نکالنے، سڑکیں بند کرنے اور ایک ’انسیڈنٹ کمانڈر‘ مقرر کرنے جیسے اختیارات حاصل ہوں گے۔

حکومتی موقف کے مطابق یہ اقدامات قانون و نظم و نسق برقرار رکھنے، پرتشدد احتجاج روکنے اور شہریوں کی حفاظت میں مددگار ثابت ہوں گے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طاقت آئین کے تحت پر امن اجتماع کی آزادی کو کمزور کرسکتی ہیں۔
قانونی ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ سخت سزائیں، غیر ضمانتی جرائم اور پولیس کو ’نیک نیتی‘ کے تحت قانونی تحفظ دینے کی شقیں عوامی حقوق کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
سپریم کورٹ کی وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ربیعہ باجوہ کہتی ہیں کہ ’ہم تو پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ اب ہم مستقل طور پر پولیس سٹیٹ کے باسی بننے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف اور صرف سیاسی آوازوں کا گلا گھونٹنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پہلے کسی جگہ کو حساس مقام قرار دینے کے لیے مضبوط وجہ ہوتی تھی اب یہ مینار پاکستان گراؤنڈ کو بھی حساس قرار دے دیں گے۔ عدالتیں پہلے ہی ہاتھ کھڑے کر چکی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب ہم تیزی سے سخت گیر نظام حکمرانی میں پہنچ چکے ہیں۔‘













