Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سکیورٹی زونز اور نئی فورس، پنجاب پولیس کے مجوزہ اختیارات کیا ہیں؟

پنجاب میں پولیس اور انتظامیہ کی طاقت میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے (فائل فوٹو: پنجاب پولیس)
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکومت پولیس کو مزید طاقت ور بنانے کے لیے قانون میں ترمیم لا رہی ہے۔
پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک ایسے قانون کا مسودہ پیش کیا گیا جو صوبائی پولیس اور انتظامیہ کو ایسے اختیارات فراہم کر رہا ہے جو اس سے پہلے موجود نہیں تھے۔
اس نئے مجوزہ قانون کے تحت ہائی سکیورٹی زونز بنائے جا رہے ہیں جس کے تحت احتجاج اور جلسوں پر سخت پابندیاں لگائی جا سکیں گی اور خلاف ورزی کرنے والے کو تین برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
پولیس آرڈر (دوسری ترمیم) ایکٹ 2025 جس سے پولیس کی ایک نئی رائٹس مینجمنٹ یونٹ یعنی ہنگاموں سے نمٹنے والی فورس بھی قائم جا رہی ہے جس کا سربراہ ایک ایڈیشنل آئی جی ہو گا۔
پنجاب حکومت کے نئے مجوزہ قانون کے مطابق کسی بھی علاقے کو حساس قرار دے کر جلسوں، جلوسوں اور احتجاج پر پابندی لگائی جا سکے گی۔
ضلعی ڈپٹی کمشنر کسی بھی جگہ کو ہائی سکیورٹی زون قرار دے گا جہاں عوامی اجتماعات کے لیے پیشگی اجازت لازمی ہو گی۔ بغیر اجازت اجتماع کی صورت میں تین برس تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے جبکہ عام علاقوں میں بلااجازت اجتماع پر ایک برس تک قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی کارروائی بھی شامل ہے۔
پولیس کو اجتماعات میں استعمال ہونے والا سامان ضبط کرنے کا حق بھی دیا جا رہا ہے۔ 
پنجاب اسمبلی کی ہوم کمیٹی نے پولیس آرڈر 2002 میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت ایک انٹی رائٹس یونٹس کے نام پر پولیس کا ایک خصوصی ڈھانچہ کی قائم کیا جا رہا ہے یہ یونٹ جدید تربیت اور ہتھیاروں سے لیس ہو گا اور صوبے بھر میں فسادات اور غیرقانونی احتجاج کے خلاف کارروائی کرے گی۔
اس قانون میں ’رائٹس زون‘ کا تصور بھی شامل ہے جس کے تحت ضلعی انتظامیہ اور پولیس مل کر کسی علاقے کو حساس قرار دے سکتے ہیں، شہریوں کو باہر نکالنے، سڑکیں بند کرنے اور ایک ’انسیڈنٹ کمانڈر‘ مقرر کرنے جیسے اختیارات حاصل ہوں گے۔

اس قانون کے تحت ضلعی انتظامیہ اور پولیس مل کر کسی علاقے کو حساس قرار دے سکتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

حکومتی موقف کے مطابق یہ اقدامات قانون و نظم و نسق برقرار رکھنے، پرتشدد احتجاج روکنے اور شہریوں کی حفاظت میں مددگار ثابت ہوں گے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طاقت آئین کے تحت پر امن اجتماع کی آزادی کو کمزور کرسکتی ہیں۔
قانونی ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ سخت سزائیں، غیر ضمانتی جرائم اور پولیس کو ’نیک نیتی‘ کے تحت قانونی تحفظ دینے کی شقیں عوامی حقوق کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
سپریم کورٹ کی وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ربیعہ باجوہ کہتی ہیں کہ ’ہم تو پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ اب ہم مستقل طور پر پولیس سٹیٹ کے باسی بننے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف اور صرف سیاسی آوازوں کا گلا گھونٹنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پہلے کسی جگہ کو حساس مقام قرار دینے کے لیے مضبوط وجہ ہوتی تھی اب یہ مینار پاکستان گراؤنڈ کو بھی حساس قرار دے دیں گے۔ عدالتیں پہلے ہی ہاتھ کھڑے کر چکی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب ہم تیزی سے سخت گیر نظام حکمرانی میں پہنچ چکے ہیں۔‘

اس قانون کے تحت ہنگاموں سے نمٹنے والی فورس بھی قائم جا رہی ہے جس کا سربراہ ایک ایڈیشنل آئی جی ہو گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پنجاب میں پولیس اور انتظامیہ کی طاقت میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سال 2025 میں سیف سٹی پروجیکٹ اور بڑے شہروں میں نگرانی کرنے والے ہزاروں کیمرے نصب کیے گئے ہیں جنہیں اب عدالتوں میں ثبوت کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اسی طرح کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ اور دیگر خصوصی پولیس یونٹس کے قیام نے پولیس کے دائرہ کار اور صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔

شیئر: