Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جماعت اسلامی سے اتحاد، بنگلہ دیش کی ’جین زی‘ پارٹی کے اندر پھوٹ پڑ گئی

نئی پارٹی کی تشکیل رواں سال کے آغاز میں احتجاجی تحریک میں شامل رہنماؤں نے کی تھی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
بنگلہ دیش کی نئی سیاسی جماعت ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ کو اگلے عام انتخابات سے قبل اندرونی خلفشار کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی حکومت کو احتجاجی تحریک سے ختم کرنے کا باعث بننے والی جنریشن زی کی سیاسی پارٹی کے جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد نے اس کے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
گزشتہ برس 2024 میں احتجاجی تحریک کے نتیجے میں جنم لینے والی نیشنل سٹیزن پارٹی کے کم از کم 30 رہنماؤں نے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا اور مخالفت کی۔
اس اتحاد کا اعلان اتوار کو کیا گیا تھا جس کے بعد نیشنل سٹیزن پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے احتجاجا استعفے بھی دے دیے۔
بنگلہ دیش کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے اور ملک میں اگلے سال 12 فروری کو عام انتخابات منعقد ہونے ہیں۔
انتخابی اتحاد سے قبل کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر ہے جبکہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) پہلے نمبر پر تھی۔
اوپینیئن پولز کے مطابق نیشنل سٹیزن پارٹی تیسرے نمبر پر تھی۔
ڈھاکہ کے ایک ماہر تعلیم ایچ ایم ناظم العالم نے اس حوالے سے کہا کہ ’نئی پارٹی نے خود کو روایتی طاقت کے ڈھانچے کے متبادل کے طور پر نوجوان قیادت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے پیش کیا۔ یہ شناخت اب شدید دباؤ میں ہے۔‘
ناظم العالم کے مطابق ’نوجوانوں کی بنیاد پر چلنے والی تحریکیں صرف اس وجہ سے نہیں ٹوٹتیں کہ وہ الیکشن ہار جاتی ہیں، وہ اس وقت ٹوٹ جاتی ہیں جب وہ واضح اور اندرونی اتحاد کھو بیٹھتی ہیں۔‘

حسینہ واجد کی عوامی لیگ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ فائل فوٹو: روئٹرز

’بڑے اتحاد کے لیے انتخابی اتحاد‘

نئی پارٹی کی تشکیل رواں سال کے آغاز میں احتجاجی تحریک میں شامل رہنماؤں نے کی تھی۔ تحریک نے اگست 2024 میں طویل عرصے سے وزیراعظم کے طور پر موجود شیخ حسینہ واجد کو بے دخل کر کے انہیں انڈیا فرار ہونے پر مجبور کیا تھا۔‘
نیشنل سٹیزن پارٹی میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو 1990 کی دہائی کے اواخر میں پیدا ہوئے اور جن کو جنریشن زی یا ’جین زی‘ پکارا جاتا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد قوم کو دہائیوں کی اقربا پروری اور حسینہ کی عوامی لیگ اور بی این پی کے تسلط سے نجات دلانا ہے۔
حسینہ واجد کی عوامی لیگ پر پابندی کے باعث ووٹ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا۔
جماعت اسلامی اپنی حریف دونوں جماعتوں سے بہت پیچھے رہ گئی ہے کیونکہ سنہ 2013 کے بعد سے پابندی کے باعث اُس نے کوئی الیکشن نہیں لڑا۔

نئی پارٹی کے رہنما عثمان ہادی کو گزشتہ ہفتے ڈھاکہ میں قتل کر دیا گیا تھا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

نیشنل سٹیزن پارٹی کے سربراہ ناہید اسلام نے اتوار کو پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اُن کے 32 سالہ رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد جماعت کو اگلے الیکشن میں دیگر پارٹیوں کے ہم پلہ رکھنے کے لیے انتخابی اتحاد ضروری تھا۔
ان کے مطابق بعض قوتیں انتخابی عمل کو تشدد کے ذریعے ’ڈیل ری‘ کرنا چاہتی ہیں ایسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہے۔
’ہم نے جس ڈکٹیٹرشپ کو اقتدار سے ہٹایا وہ الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لیے ایک بڑے اتحاد کے لیے ہم نے جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد پر اتفاق کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پارٹی کے اندر اکثریتی فیصلہ تھا لیکن اس کی ممکنہ طور پر کچھ مخالفت ہوگی اور ایسے لوگ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔‘

 

شیئر: