ملتان سلطانز کا کنٹرول پی سی بی کے پاس، علی ترین کو کیا آفر دی گئی ہے؟
منگل 30 دسمبر 2025 12:36
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
ملتان سلطانز کے مالک علی ترین اور پی سی بی کے درمیان تنازع کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پی ایس ایل 2026 کے سیزن میں ملتان سلطانز فرنچائز کو کسی بیرونی خریدار کے بجائے خود چلائے گا۔
ایک پریس کانفرنس میں پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے اعلان کیا کہ بورڈ لیگ کے 11ویں سیزن کے دوران فرنچائز کے انتظام کے لیے سابق کرکٹرز اور ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دے گا، جس کے بعد سیزن کے اختتام پر فرنچائز کو دوبارہ فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ’جیسے ہی پی ایس ایل ختم ہوگا، ہم فرنچائز کی نیلامی کریں گے، اور اگلے آٹھ سے دس دن میں ایک قائم مقام سربراہ مقرر کر دیا جائے گا جو ٹیم کے معاملات چلائے گا۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ ملتان سلطانز کو ان دو نئی فرنچائزز کے ساتھ فروخت نہیں کیا جا سکتا جن کی عوامی نیلامی 8 جنوری کو اسلام آباد میں ہونی ہے، کیونکہ قواعد کے تحت کسی فرنچائز کی فروخت کا اعلان نیلامی سے ایک مخصوص مدت پہلے ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ پی ایس ایل کا آغاز مارچ کے آخر میں متوقع ہے، اس لیے اس محدود وقت میں ملتان سلطانز کے لیے الگ خریدار تلاش کرنا ممکن نہیں تھا۔
ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے گزشتہ ماہ فرنچائز سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ علی ترین اور پی ایس ایل انتظامیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کے بعد سامنے آیا، جس میں ترین نے کھلے عام لیگ انتظامیہ پر عدم شفافیت اور وژن کی کمی کے الزامات عائد کیے تھے۔
اس کے جواب میں پی سی بی نے علی ترین کو قانونی نوٹس جاری کیا جس میں ان پر ملکیت کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا اور بیان واپس لینے کے ساتھ معذرت کا مطالبہ کیا گیا۔
علی ترین نے اس کے ردعمل میں ایک طنزیہ معذرتی ویڈیو جاری کی، جس کے آخر میں انہوں نے پی سی بی کا نوٹس پھاڑ دیا تھا۔
اس کے بعد آنے والے ہفتوں میں علی ترین کو سیزن 11 کی تیاریوں سے بتدریج الگ کر دیا گیا۔ وہ واحد فرنچائز مالک تھے جنہیں ری نیول آفر لیٹر موصول نہیں ہوا۔
گزشتہ ہفتے علی ترین نے کہا تھا کہ پی سی بی چیئرمین یا پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے ان کی کسی بھی خط و کتابت کا جواب نہیں دیا گیا، اور انہوں نے قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی۔
علی ترین کی ملکیت 31 دسمبر کو باضابطہ طور پر ختم ہونے کے بعد، پی سی بی کو اس بات کا خدشہ تھا کہ اسے دو کے بجائے تین فرنچائزز کے لیے خریدار تلاش کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم محسن نقوی نے عندیہ دیا کہ علی ترین کے لیے واپسی کا دروازہ کھلا ہے۔ انہوں نے ملتان سلطانز کے لیے ترین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ’بدقسمتی سے جو کچھ ہوا، وہ ایک معاملہ تھا جس پر میں بات نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن ہم علی کو خوش آمدید کہیں گے۔ اگر وہ نئی ٹیم خریدنا چاہتے ہیں تو وہ نیلامی میں حصہ لے سکتے ہیں۔‘
پی ایس ایل کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پی سی بی خود کسی فرنچائز کا براہِ راست انتظام سنبھال رہا ہے، اور کسی بڑی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں اس کی کوئی واضح مثال موجود نہیں۔ ملتان سلطانز کے لیے بنائی جانے والی انتظامی کمیٹی کی حتمی شکل تاحال واضح نہیں، تاہم محسن نقوی کے مطابق مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔
