Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گزشتہ برس آوارہ جانوروں کی وجہ سے ہائی ویز پر426 حادثات

آوارہ جانوروں کی وجہ سے حادثات میں 5 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے(فوٹو،ایکس اکاونٹ)
 جنرل اتھارٹی فار روڈز کا کہنا ہے کہ سال 2025 کے دوران مملکت کی شاہراہوں پر نکل آنے والے جانوروں کی وجہ سے 426 حادثات میں 5 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے۔
اخبار 24 کے مطابق اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ شہروں کو جوڑنے والی ہائی ویزکے اطراف میں لوگوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کےلیے آہنی باڑ لگائی جاتی ہے تاکہ جانور شاہراہوں پر نہ آئیں۔
مویشیوں کے شاہراہوں پر نکل آنے کی وجہ سے بعض اوقات سنگین حادثات بھی رونما ہوتے ہیں جن سے بچاو کےلیے اتھارٹی نے سخت قوانین بھی نافذ کیے ہیں۔
اتھارٹی نے شاہراہوں پر اونٹوں کی کھلے عام نقل وحرکت کو منظم رکھنے کےلیے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے اس بات کا انتباہ دیا ہے کہ شاہراہوں کے اطراف میں بنی خاردار باڑ کو کاٹنا قانون شکنی ہے جس پر 50 ہزار ریال جرمانے کے علاوہ باڑ کی مکمل اصلاح کی ذمہ داری بھی خلاف ورزی کے مرتکب پر ہوگی۔
روڈ اتھارٹی نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ ان علاقوں میں جہاں شاہراہوں کے اطراف میں باڑ موجود نہیں وہاں اونٹوں کی گزرگاہوں کو محفوظ بنانے کے لیے اوقات کا تعین بھی کیا جاتا ہے۔
 مخصوص مقامات پراحتیاطی منصوبے کے تحت اونٹوں کے مالکان کو ٹول فری نمبر 938 پر کال کرکے وقت کا تعین کرنے کا پابند بنایا گیا ہے تاکہ سینٹر کی جانب سے اونٹوں کو گزارنے کے لیے ہنگامی بندوبست کیا جائے۔
اتھارٹی نے اونٹوں کے مالکان سے کہا ہے کہ وہ قیمتی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اونٹوں کو شاہراہوں کے قریب نہ لے جائیں تاکہ ہائی ویزے پر نکل آنے کے خدشے کو ختم کیا جائے۔
واضح رہے سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں صحرا نشین اونٹوں کو چرانے کےلیے صحرا میں لے جاتے ہیں جہاں وہ دن بھر چرنے کے بعد شام کو اپنے باڑے میں لوٹ آتے ہیں ایسے میں بعض اونٹ سڑک پر نکل جاتے ہیں جس سے سنگین حادثات رونما ہوتے ہیں۔
اونٹوں سے ہونے والے حادثات کی روک تھام کے لیے شاہراہوں کے اطراف میں آہنی تاروں کی خاردار باڑ لگائی جاتی ہے تاکہ اونٹ ان باڑوں کو عبور کرکے شاہراہ پر نہ نکلیں۔

شیئر: