Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قومی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ کھیلنے انڈیا نہیں جائے گی: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ

انڈیا نے آئی پی ایل میں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
بنگلہ دیش نے اگلے ماہ شروع ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کے اپنے میچز انڈیا سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انڈیا نے آئی پی ایل میں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو حصہ لینے سے روک دیا تھا۔
سنہ 2024 کے اواخر میں ڈھاکہ میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کے پڑوسی ملک انڈیا سے سفارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی جو تاحال جاری ہے۔
حسینہ واجد کو انڈیا کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا اور وہ اپنے ملک سے فرار ہو کر پڑوسی ملک میں پناہ لے چکی ہیں۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اتوار کو کہا کہ اُس نے باضابطہ طور پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے اپنی ٹیم کے میچز انڈیا سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔
بی سی بی کے بیان کے مطابق ’بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیصلہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم موجودہ صورتحال میں ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے انڈیا نہیں جائے گی۔‘ 
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی ’سکیورٹی کے بڑھتے خدشات‘ کے باعث کیا گیا اور اس میں حکومت کی سفارش بھی شامل تھی۔
بنگلہ دیش کے بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز نے فارغ کر دیا گیا اور اس کی وجہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) کی سفارش کو قرار دیا تھا۔
قبل ازیں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور سپورٹس کے مشیر آصف نذرل نے کہا تھا کہ ’کسی بھی قسم کے حالات میں بنگلہ دیش کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی کسی طرح کی توہین قبول نہیں کی جائے گی۔‘

انڈین پریمیئر لیگ میں صرف ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو لیا گیا تھا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

اُن کی جانب سے جاری کیا گیا بیان سرکاری نیوز ایجنسی ’بی ایس ایس‘ نے شائع کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’غلامی کے دن گزر چکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی معاہدے کے باوجود انڈیا میں نہیں کھیل سکتا وہاں پوری بنگلہ دیشی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے میں خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکتی۔‘

 

شیئر: