انڈین ہاکی ٹیم کی جرسی کا روایتی رنگ کیوں تبدیل کیا گیا اور تنازع کیا ہے؟
جمعرات 30 جولائی 2026 14:25
ہاکی انڈیا کی جانب سے رواں برس اگست میں شیڈول ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کے لیے روایتی نیلی جرسی کو نارنجی رنگ کی جرسی سے تبدیل کرنے کے حالیہ اعلان پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق فیڈریشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ جرسی کے رنگ کی تبدیلی کا فیصلہ تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے کیونکہ اِس رنگ کی وجہ سے کھلاڑیوں کو میدان میں کھیلنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔‘
ہاکی انڈیا کا مزید کہنا ہے کہ ’جرسی کے رنگ کی تبدیلی کا فیصلہ سپورٹ سٹاف اور کھلاڑیوں کی سفارشات اور اُن سے تفصیلی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔‘
’اِس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد کوچز اور کھلاڑیوں نے نارنجی رنگ کی جرسی اپنانے کی سفارش کی جس کے بعد اس رنگ کو حتمی طور پر اختیار کر لیا گیا۔‘
ہاکی انڈیا کے مطابق ’تکنیکی ضرورت کے علاوہ نارنجی رنگ انڈیا کے قومی پرچم کا بھی حصہ ہے اور اِسے بہادری، قربانی اور قومی فخر کی ایک علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔‘
فیڈریشن کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ قومی ہاکی ٹیم کی جرسی کا رنگ ماضی میں بھی مختلف مواقع پر تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔
’مثال کے طور پر انڈین ٹیم نے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2014 کے دوران پیلے رنگ کی جرسی پہنی تھی جبکہ ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2018 میں قومی ٹیم کی کرسی کا رنگ آسمانی نیلا تھا اور اس کا ڈیزائن بھی مختلف تھا۔‘
ہاکی انڈیا نے بتایا کہ ’ٹیم کی جرسی کا نیا نارنجی رنگ کوچز اور کھلاڑیوں کی تکنیکی آرا اور نارنجی رنگ کی قومی علامتی اہمیت کو مدِنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔‘
انڈین ہاکی ٹیم کی جرسی کی تبدیلی پر اعتراض کرنے والے بعض افراد کا یہ کہنا ہے کہ نارنجی رنگ انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) سے منسوب ہے، اسے اختیار کرنے کی وجہ بھی یہی ہے۔
انڈین ہاکی ٹیم کے سابق کپتان ویرین راسکوئنہا کا موقف ہے کہ ’نیلا رنگ ہمیشہ سے قومی ٹیم کی پہچان رہا ہے اور ہاکی انڈیا کی جانب سے اسے تبدیل کرنا شرمناک ہے۔‘
اس تنقید کو زیادہ توجہ بھی اُس وقت ملی جب ویرین راسکوئنہا کا بیان سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیم کی پہچان ہمیشہ سے نیلے رنگ کے ساتھ جُڑی رہی ہے، آخر نارنجی رنگ اختیار کرنے کی منطق کیا ہے؟‘
بدھ کو اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے کئی برسوں تک نیلے رنگ کی جرسی بہت فخر کے ساتھ پہنی، مداح انڈین ٹیم کو نیلی جرسی میں ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔‘
بعد ازاں جمعرات کو انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر مزید لکھا کہ ’میں دیکھ رہا ہوں کہ اس معاملے میں سیاست کو گھسیٹا جا رہا ہے، کئی لوگوں نے غیرضروری طور پر سیاسی تنقید کی ہے۔‘
’میں سیاسی معاملات میں نہیں پڑنا چاہتا، میرا بس سادہ سا موقف یہ ہے کہ ’فخر، شناخت اور وراثت۔‘