Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کسی ملک کو عالمی جج نہیں مانتے‘، مادورو کی گرفتاری پر چین کا ردعمل

نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ’وینزویلا کو امریکہ چلائے گا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
چین نے کہا ہے کہ وہ کسی ملک کی جانب سے ’دنیا کا جج‘ بننے کے اقدام کو قبول نہیں کر سکتا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ بیان امریکہ کی اس کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا تھا۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے بیجنگ سے ملاقات کے دوران وینزویلا میں اچانک ہونے والی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ کوئی ملک دنیا کی پولیس کے طور پر کام کرے اور نہ ہی یہ قبول کرتے ہیں کہ کوئی بھی ملک دنیا کا جج بننے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو بین الاقوامی قوانین کے تحت مکمل تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔‘
چین کے اعلیٰ سفارت کار کے مطابق ’سنیچر کو سامنے آنے والی 63 سالہ نکولس کی ہاتھوں میں ہتھکڑی اور آنکھوں پر پٹی کی تصاویر نے وینزویلا کے شہریوں کو حیران کر دیا۔‘
نکولس مادورو کو نیویارک کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے اور ان کو منشیات سے متعلق الزامات کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تجارتی مذاکرات میں امریکہ کے مقابل کھڑا ہونے اور کامیابی حاصل کرنے سے چین کے اعتماد کو تقویت ملی ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ امریکہ وینزویلا کی حکومت کی نگرانی کرے گا چین کے لیے کارکاس کے ساتھ ’50 سالہ سفارتی تعلقات اور جامع شراکت داری‘ کے تناظر میں ایک سخت امتحان ہے۔
چینی حکومت کے عہدیدار نے نکولس مادورو اور لاطینی امریکہ و کیریبیئن امور کے لیے چین کے خصوصی نمائندے کیو ژیاؤ کے درمیان گرفتاری سے کچھ دیر قبل ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ چین کے لیے بڑا دھچکا ہے اور ہم وینزویلا کے قابل اعتماد دوست کی طرح نظر آنا چاہتے ہیں۔‘
نکولس مادورو کے بیٹے نے 2024 میں چین کی اہم یونیورسٹی پیکنگ کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے 2016 میں داخلہ بھی لیا تھا۔
دنیا کی دوسری بڑی معیشت نے 2017 میں وینزویلا پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پابندیوں میں اضافے کے بعد اقتصادی لائف لائن فراہم کی اور 2024 میں ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر مالیت کا سامان خریدا۔
کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق چین کی تقریباً نصف سے زائد خریداری خام تیل پر مبنی تھی جبکہ امریکی انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ تھنک ٹینک کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ چین کی سرکاری تیل کی کمپنیز نے 2018 تک وینزویلا میں تقریباً چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔

شیئر: