شیخ حسینہ کے دور میں اغوا کیے گئے افراد میں سے 287 کو ہلاک کیے جانے کا انکشاف
شیخ حسینہ کے دور میں اغوا کیے گئے افراد میں سے 287 کو ہلاک کیے جانے کا انکشاف
پیر 5 جنوری 2026 16:00
کمیشن نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے شیخ حسینہ اور ان کے اعلیٰ حکام کے احکامات کے تحت کارروائیاں کیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش کے معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں لوگوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے پیر کو کہا کہ اس دور میں اغوا ہونے والے کم از کم 287 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کمیشن کا کہنا ہے کہ بعض لاشوں کو دریاؤں میں پھینکا گیا ہوگا جن میں دارالحکومت ڈھاکہ کا دریائے بوری گنگا بھی شامل ہے، جبکہ کچھ کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا ہو۔
حکومت کی جانب سے قائم کیا گیا یہ کمیشن، جو اگست 2024 میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں حسینہ کی معزولی کے بعد تشکیل دیا گیا تھا، نے اغوا کے 1,569 مقدمات کی تحقیقات کیں، جن میں سے 287 متاثرین کو ہلاک تصور کیا جا رہا ہے۔
کمیشن کے رکن نور خان لِٹن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے کئی مقامات پر بغیر نشان زدہ قبروں کی نشاندہی کی ہے جہاں لاشیں دفن کی گئی تھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ بنگلہ دیش لاشوں کی شناخت کے لیے فرانزک ماہرین سے تعاون حاصل کرے اور لواحقین سے ڈی این اے نمونے جمع کر کے محفوظ کیے جائیں۔
اتوار کو حکومت کو پیش کی گئی اپنی حتمی رپورٹ میں کمیشن نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے شیخ حسینہ اور ان کے اعلیٰ حکام کے احکامات کے تحت کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق اغوا کیے گئے بہت سے افراد کا تعلق ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت جماعتِ اسلامی یا بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سے تھا، جو دونوں حسینہ کی مخالف تھیں۔
ایک علیحدہ تحقیقات کے دوران پولیس نے دسمبر میں ڈھاکہ میں ایک اجتماعی قبر دریافت کی۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق، شیخ حسینہ واجد کی جانب سے اقتدار برقرار رکھنے کی کوششوں کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں 1,400 تک افراد مارے گئے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے سربراہ ایم ڈی سبغت اللہ کے مطابق، اس قبر میں کم از کم آٹھ افراد کی لاشیں شامل تھیں جو حسینہ کے خلاف بغاوت کے دوران مارے گئے تھے، اور تمام لاشوں پر گولیوں کے زخم پائے گئے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق، شیخ حسینہ واجد کی جانب سے اقتدار برقرار رکھنے کی کوششوں کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں 1,400 تک افراد مارے گئے تھے۔
نومبر میں شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی گئی۔
ڈھاکہ میں واقع قبر سے ملنے والی لاشوں میں سے ایک کی شناحت سہیل رانا کے نام سے ہوئی۔
سہیل رانا کے بھائی محمد نبیل کا کہنا ہے کہ ‘ہم شکر گزار ہیں کہ آخرکار ہمیں معلوم ہو سکا کہ ہمارے بھائی کو کہاں دفن کیا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ طلبہ تحریک کے دوران لوگوں پر فائرنگ کرنے والے پولیس افسران کا فوری طور پر ٹرائل کیا جائے۔‘