Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لائف ٹائم وارنٹی لیکن ریفریجریٹر چند ماہ میں خراب، صارفین کو کیا حقوق حاصل ہیں؟

ماہرین کے مطابق پاکستان میں صارفین کے حقوق سے متعلق سب سے بڑا مسئلہ عوامی آگاہی کی کمی ہے: فوٹو پاکسابے
پاکستان میں خریداری کے دوران دیے جانے والے دلکش وعدے، خصوصاً ’لائف ٹائم وارنٹی‘ جیسے دعوے، اکثر صارف کے اعتماد کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ 
کراچی کے علاقے کلفٹن کے رہائشی عارف کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، جنہوں نے ایک معمول کی گھریلو ضرورت پوری کرنے کے لیے نیا ریفریجریٹر خریدا۔ مگر یہ خریداری جلد ہی ایک قانونی معرکے میں بدل گئی۔
عارف نے جب ریفریجریٹر خریدا، تو کمپنی کی جانب سے لائف ٹائم وارنٹی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ کسی بھی صارف کے لیے یہ دعویٰ اعتماد اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے، اسی بنیاد پر عارف نے اس مخصوص برانڈ کا انتخاب کیا۔ تاہم یہ اعتماد اس وقت ٹوٹ گیا جب چند ہی ماہ میں ریفریجریٹر خراب ہوگیا اور روزمرہ زندگی کے معمولات متاثر ہونے لگے۔
عارف کے مطابق انہوں نے بارہا کمپنی سے رابطہ کیا، شکایات درج کروائیں اور مرمت بھی کروائی، مگر ہر بار مسئلہ حل ہونے کی بجائے برقرار رہا۔ کبھی تکنیکی خرابی کا جواز پیش کیا گیا تو کبھی نیا ریفریجریٹر دینے کا وعدہ کرکے معاملہ مؤخر کر دیا گیا۔ وقت گزرتا رہا، مگر کمپنی کی یقین دہانیاں عملی شکل اختیار نہ کر سکیں۔
عارف نے بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ خاموش رہنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا جائے تو انہوں نے کنزیومر پروٹیکشن عدالت جنوبی کراچی سے رجوع کیا۔
کنزیومر پروٹیکشن عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد عارف کے حق میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کمپنی کے طرزِ عمل کو صارفین کے حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شہری کو دو لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے، پچاس ہزار روپے قانونی اخراجات دینے اور خراب ریفریجریٹر کی جگہ نیا ریفریجریٹر فراہم کرنے کا حکم دیا۔
اس فیصلے کے بعد عارف کو نہ صرف مالی ریلیف ملا بلکہ یہ احساس بھی ہوا کہ قانون واقعی عام صارف کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔
یہ فیصلہ ان ہزاروں صارفین کے لیے بھی امید کی کرن ہے جو ناقص اشیا یا خدمات کے باعث پریشان ہوتے ہیں مگر قانونی کارروائی کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
پاکستان میں صارفین کو کیا حقوق حاصل ہیں؟

کنزیومر پروٹیکشن قوانین کے تحت شکایت درج کروانے کا طریقہ کار نسبتا آسان رکھا گیا ہے: فائل فوٹو پکسابے

یہ کیس ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے کہ آخر پاکستان میں صارفین کو کیا حقوق حاصل ہیں اور وہ ان حقوق کا تحفظ کیسے کر سکتے ہیں؟
سندھ میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ نافذ ہے، جس کا مقصد صارف اور فروخت کنندہ کے درمیان موجود طاقت کے عدم توازن کو کم کرنا ہے۔
اس قانون کے تحت ہر صارف کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ اسے معیاری، محفوظ اور وعدے کے مطابق اشیا اور خدمات فراہم کی جائیں۔ فروخت کی جانے والی شے اگر ناقص ہو یا اشتہار میں کیے گئے دعوے حقیقت سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو صارف قانونی کارروائی کر سکتا ہے۔
قانون صارف کو درست اور مکمل معلومات کے حق کی بھی ضمانت دیتا ہے۔ کوئی بھی کمپنی یا دکاندار کسی شے کے بارے میں مبالغہ آرائی، غلط بیانی یا مبہم اصطلاحات استعمال کرکے صارف کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ لائف ٹائم وارنٹی جیسے الفاظ اگر واضح شرائط کے بغیر استعمال کیے جائیں تو یہ گمراہ کن تشہیر کے زمرے میں آتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں اگر صارف کو نقصان پہنچے تو عدالتیں عموماً صارف کے حق میں فیصلہ دیتی ہیں، جیسا کہ عارف کے کیس میں دیکھا گیا۔
ماہر قانون ایڈووکیٹ عثمان فاروق نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’صارفین کو شکایت درج کرانے اور اپنے نقصان کا ازالہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ قانون کے تحت صارف مرمت، تبدیلی، رقم کی واپسی یا ہرجانے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ناقص شے یا سروس کے باعث صارف کو ذہنی اذیت، مالی نقصان یا وقت کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑے تو عدالت ہرجانہ بھی عائد کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں کنزیومر پروٹیکشن عدالتوں کے فیصلوں میں ہرجانے کی رقم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاکہ کمپنیوں کو غیر ذمہ دارانہ رویے سے باز رکھا جا سکے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اکثر صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ کنزیومر کورٹ سے رجوع کرنا ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کنزیومر پروٹیکشن قوانین کے تحت شکایت درج کروانے کا طریقہ کار نسبتا آسان رکھا گیا ہے۔‘
شکایت کیسے درج کی جا سکتی ہے؟

صارفین کو شکایت درج کرانے اور اپنے نقصان کا ازالہ کرنے کا حق حاصل ہے: فوٹو پکسابے

صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن محمد جنید کے مطابق سب سے پہلے صارف کو چاہیے کہ وہ کمپنی یا دکاندار سے تحریری طور پر رابطہ کرے اور مسئلے کی نشاندہی کرے۔ اگر وہاں سے مسئلہ حل نہ ہو تو قانونی نوٹس کے ذریعے آخری موقع دیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد کنزیومر پروٹیکشن عدالت میں درخواست دائر کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’درخواست کے ساتھ خریداری کی رسید، وارنٹی کارڈ، شکایات کا ریکارڈ، ای میلز یا پیغامات بطور ثبوت پیش کیے جا سکتے ہیں۔ کنزیومر کورٹس کا مقصد ہی یہ ہے کہ عام شہری کم وقت اور کم خرچ میں انصاف حاصل کر سکے، اسی لیے یہاں کارروائی نسبتاً تیز اور سادہ ہوتی ہے۔ کئی کیسز میں صارف بغیر وکیل کے بھی اپنا مؤقف پیش کر سکتا ہے، تاہم قانونی معاونت حاصل ہو تو فیصلے کے صارف کے حق میں ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق پاکستان میں صارفین کے حقوق سے متعلق سب سے بڑا مسئلہ عوامی آگاہی کی کمی ہے۔ بیشتر افراد یہ نہیں جانتے کہ ناقص اشیا یا گمراہ کن تشہیر کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہے۔ اسی لاعلمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض کمپنیاں غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتی ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں کنزیومر کورٹس کے فیصلے اس رجحان کو بدلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
عارف کا کیس بھی اسی بدلتی ہوئی سوچ کی ایک مثال ہے۔ یہ فیصلہ کمپنیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ صارفین کو گمراہ کرنا، وعدے کرکے پورے نہ کرنا اور شکایات کو نظر انداز کرنا اب آسان نہیں رہا۔ عدالتیں اب صارف کے وقت، ذہنی اذیت اور اعتماد کے نقصان کو بھی اہمیت دے رہی ہیں۔
 

شیئر: