Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وینزویلا کے نزدیک امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے تیل بردار جہاز کی حفاظت کیلئے روسی آبدوز تعینات

اخبار کے مطابق امریکی کوسٹ گارڈ بدستور اس جہاز کا تعاقب کر رہی ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق روس نے امریکی ناکہ بندی کو توڑ کر نکلنے کی کوشش کرنے والے پرانے تیل بردار جہاز کو محفوظ راستے سے نکالنے کے لیے ایک آبدوز اور دیگر بحری جہاز تعینات کیے ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل نے منگل کے روز ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ خبر دی۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ جہاز، جو پہلے بیلا ون کے نام سے جانا جاتا تھا، کو امریکی کوسٹ گارڈ نے واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا سے اور وینزویلا کو جانے والی پابندی کا شکار تیل کی ترسیل پر عائد ناکہ بندی کے بعد روکنے اور ضبط کرنے کی کوشش کی تھی۔ امریکی حکام دسمبر سے اس تیل بردار جہاز کو تحویل میں لینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
اخبار نے تین دیگر امریکی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کی ہے کہ  روس نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اس جہاز کا پیچھا کرنا بند کر دے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وہ اس رپورٹ کی تصدیق نہ کر سکا۔ وائٹ ہاؤس اور امریکی کوسٹ گارڈ نے معمول کے اوقات کے بعد تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
منگل کے روز روسی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ وہ اس تیل بردار جہاز کے حوالے سے ہونے والی صورتحال کو ’تشویش کے ساتھ‘ دیکھ رہی ہے۔
امریکی سدرن کمانڈ، جو لاطینی امریکہ اور کیریبین میں فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے، نے منگل کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ ’اس خطے سے گزرنے والے پابندی کا شکار جہازوں اور عناصر کے خلاف کھڑے ہونے میں امریکی حکومتی اداروں کے شراکت داروں کی مدد کے لیے تیار ہے۔‘
تاہم اس میں نہ تو اخبار کی رپورٹ کا ذکر کیا گیا اور نہ ہی روسی آبدوز کا۔
اخبار کے مطابق امریکی کوسٹ گارڈ بدستور اس جہاز کا تعاقب کر رہی ہے اور وہ اب مشرقی بحرِ اوقیانوس میں آئس لینڈ سے تقریباً 300 میل جنوب میں بحیرۂ شمالی کی جانب روانہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیل بردار جہاز نے اپنا نام تبدیل کر کے میرینیرا رکھ لیا ہے اور اپنی رجسٹریشن روس منتقل کر دی ہے۔
منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت وینزویلا کے 50 ملین بیرل تک تیل صاف کر کے فروخت کیا جائے گا جو امریکی ناکہ بندی کے باعث وہیں پھنسے ہوئے تھے۔

 

شیئر: