امریکی ویزے کے لیے ہزاروں ڈالر کی مالی ضمانت، بنگلہ دیش سمیت مزید 25 ملک فہرست میں شامل
ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد امریکہ میں داخلے کے قوانین کو مزید سخت بنانا ہے: فوٹو امریکن ویزا سروس
امریکہ نے ایک بار پھر مزید 25 ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا ہے جن کے شہریوں کو امریکی ویزے کے حصول کے لیے 15 ہزار ڈالر تک مالی ضمانت کے بانڈ جمع کرانے ہوں گے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی ویزے کے لیے بانڈ جمع کرانے کی شرط میں ممالک کی تعداد اب بڑھ کر 38 ہو گئی ہے اور فہرست میں شامل نئے ممالک پر بانڈ کی شرط کا اطلاق 21 جنوری سے ہو گا۔
امریکہ محکمۂ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق ان ممالک میں بنگلہ دیش، وینزویلا، نیپال اور کرغستان بھی شامل ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق فہرست میں شامل ممالک کے شہریوں کوامریکی سیاحتی ویزا بی 1/ بی 2 کی درخواست دینے کے لیے پانچ ہزار سے 15 ہزار ڈالر تک کے بانڈز جمع کروانا ہوں گے اور رقم کا تعین انٹرویو کے وقت کیا جائے گا۔
دیگر ممالک میں الجیریا، انگولا، اینٹیگوا اور باربودا، بینن، برونڈی، کیپ وردے، کیوبا، جبوتی، ڈومینیکا، فجی، گابون، آئیوری کوسٹ، کرغستان، نائجیریا، سینیگال، تاجکستان، ٹوگو، ٹونگا، تووالو، یوگینڈا اور زمبابوے شامل ہیں۔
ایک دن پہلے منگل کو بھی امریکہ نے سات ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا تھا۔ جس میں بھوٹان، بوٹسوانا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساؤ، نمیبیا اور ترکمانستان شامل ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پانچ ہزار سے 15 ہزار ڈالر تک کی یہ ضمانتی رقم بہت سے درخواست گزاروں کی پہنچ سے باہر ہے جس کی وجہ سے اب عام شہریوں کے لیے امریکی ویزا حاصل کرنا قریباً ناممکن ہو جائے گا۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی ان کوششوں کا تسلسل ہے جس کا مقصد امریکہ میں داخلے کے قوانین کو مزید سخت بنانا ہے۔
اس سے قبل تمام ویزا درخواست گزاروں کے لیے ذاتی انٹرویو، سوشل میڈیا ہسٹری کی تفصیلات اور خاندان کی سفری ہسٹری فراہم کرنا لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان مالی ضمانتوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ متعلقہ ممالک کے شہری اپنے ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیرقانونی طور پر امریکہ میں قیام نہ کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بانڈ کی رقم کی ادائیگی ویزا ملنے کی ضمانت نہیں ہے تاہم ویزا مسترد ہونے یا ویزا کی شرائط کے مطابق بروقت واپسی کی صورت میں یہ رقم واپس کر دی جائے گی۔