Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پائپ لائن سے پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل، قیمت کم ہو سکے گی؟

ماہرین کے مطابق ترسیل پائپ لائن کے ذریعے ہونے سے صارفین کو فائدہ ہوگا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کا نظام طویل عرصے سے سڑک کے ذریعے ٹرانسپورٹ پر انحصار کر رہا ہے اور اس وقت ملک میں ڈیزل کی 100 فیصد اور پیٹرول کی تقریباً 60 فیصد فراہمی آئل ٹینکرز کے ذریعے ہی ہو رہی ہے۔
اس نظام کے باعث نہ صرف ٹرانسپورٹ لاگت زیادہ ہے بلکہ حادثات، تاخیر، ایندھن کے ضیاع اور غیرقانونی آئل سپلائی چین جیسے مسائل بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔
لیکن اب وفاقی حکومت آئل ٹرانسپورٹ کو مرحلہ وار پائپ لائن کے نیٹ ورک پر منتقل کرنے پر کام کر رہی ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے صحافیوں کو بریفنگ میں بتایا کہ حکومت جلد پہلے مرحلے کے تحت پیٹرول اور ڈیزل کی پائپ لائن کے کام کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔

حکومت کا یہ منصوبہ ہے کیا؟

پاکستان کی وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق یہ منصوبہ پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی کو روڈ کے بجائے پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنے کا ایک بین الاقوامی معیار کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد سپلائی کو زیادہ مؤثر، سستا اور محفوظ بنانا ہے۔
اس منصوبے کے لیے فروری 2024 میں پیٹرولیم ڈویژن، ایف ڈبلیو او اور دیگر کمپنیوں کے درمیان کنسورشیم پر دستخط ہوئے تھے جس کے بعد اس پر کام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
منصوبے کے تحت  کراچی سے پشاور تک ملک کی سب سے بڑی آئل سپلائی چین کے اہم حصے کے طور پر کام کرے گی، اور اس کا مقصد روڈ ٹرانسپورٹ پر انحصار کم کرنا، سپلائی کی لاگت گھٹانا اور فیول کی ملاوٹ و چوری جیسے مسائل کو روکنا ہے۔
حکومت پہلے مرحلے میں ماچیکے (لاہور کے قریب واقع آئل سٹوریج ٹرمینل) سے فیصل آباد کے راستے ضلع چکوال کے آئل ڈپو ٹھلیاں تک پائپ لائن مکمل کرے گی، اور اس مرحلے میں پیٹرول اور ڈیزل کو وسطی پنجاب تک سڑک کے بجائے پائپ لائن کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔


پائپ لائن کے ذریعے ترسیل سے تیل کی چوری کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

دوسرے مرحلے میں ٹھلیاں سے تارو جبہ، یعنی خیبر پختونخوا میں نوشہرہ کے قریب واقع آئل سپلائی پوائنٹ تک اس سپلائی چین کو مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی پنجاب سے خیبر پختونخوا تک پائپ لائن کے ذریعے ممکن ہو سکے گی۔
اب ذرا یہ جان لیتے ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی سڑک کے ذریعے ٹرانسپورٹ ہونے سے ان کی قیمتوں پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی بڑی مقدار آئل ٹینکرز کے ذریعے لائی جاتی ہے، اور اس ٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں کرایہ، فیول لاگت، ڈرائیور اور سکیورٹی اخراجات اور لیکج وغیرہ کے نقصانات شامل ہوتے ہیں جو بالآخر صارفین ہی اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔
اس وقت پیٹرول اور ڈیزل پر آئی ایف ای ایم (Inland Freight Equalisation Margin) عائد ہے، جو اس وقت ڈیزل پر فی لیٹر 6 روپے 13 پیسے جبکہ پیٹرول پر 8 روپے 20 پیسے ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب یہ ترسیل پائپ لائن کے ذریعے ہو گی تو بالآخر اس کا فائدہ صارفین تک پہنچے گا، تاہم یہ اس بات پر منحصر ہے کہ حکومت اس پائپ لائن منصوبے کو کب مکمل کرتی ہے۔

تیل پائپ لائن کے منصوبے سے ٹینکر کے حادثات ختم ہو جائیں گے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

اردو نیوز نے اس حوالے سے اوگرا کے سابق ممبر (گیس) اور انرجی شعبے کے ماہر محمد عارف سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ حکومت اس منصوبے کو کب تک مکمل کر سکے گی اور اس سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت  کتنی کم ہو گی؟
اُنہوں نے اردو نیوز کو بتایا حکومت کا منصوبہ قابلِ تعریف ہے، کیونکہ سڑک کے مقابلے میں پائپ لائن ٹرانسپورٹ کے فوائد نمایاں ہیں۔ تاہم پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس کا اثر صارفین تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ پائپ لائن کے اخراجات حکومت کو سڑک کے ذریعے ٹرانسپورٹ سے کم پڑتے ہیں یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ پائپ لائن کا ٹیرف روڈ ٹرانسپورٹ کی نسبت کم ہو گا اس لیے بالآخر اس کا فائدہ عوام تک پہنچ سکے گا۔
ان کے خیال میں نہ صرف صارفین کو قیمت کے لحاظ سے فائدہ ہو گا بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ، حادثات اور تیل کی چوری جیسے خطرات بھی پائپ لائن کے ذریعے سپلائی منتقل ہونے سے کم ہو جائیں گے۔
محمد عارف کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے، تاہم پاکستان میں اکثر ایسے منصوبے جن سے عوام کو فائدہ پہنچے ان میں رکاوٹیں پیدا کر دی جاتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ کس رخ پر جاتا ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی ٹینکر کے ذریعے ترسیل پر آنے والی لاگت بھی صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

اسی حوالے سے انرجی امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہر علی خضر کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی منتقلی زیادہ تر پائپ لائن کے ذریعے کی جاتی ہے، اور اگر پاکستان میں بھی ایسا ہو جائے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہوگی، جس سے آئل ٹینکرز کے حادثات میں کمی آئے گی اور صارفین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
علی خضر کے مطابق اس وقت حکومت نے ٹرانسپورٹ لاگت پر جو فریٹ ایڈجسٹمنٹ عائد کی ہے وہ پورے ملک کے لیے یکساں ہے کیونکہ کراچی میں پیٹرول اور ڈیزل کم فاصلے پر منتقل ہوتا ہے جبکہ کشمیر یا گلگت بلتستان تک اسے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے، اس لیے حکومت مختلف فریٹ مارجن نہیں لگا سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ پائپ لائن منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو اس سے فرق کم ہو جائے گا، اور اگرچہ اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوں گے، لیکن بالآخر اس کا فائدہ عوام تک پہنچنا چاہیے۔

 

شیئر: