Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کے وینزویلا سے امریکہ کو تیل کی فراہمی کے بیان کے بعد عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی

صدر ٹرمپ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ وینزویلا امریکہ کو 30 ملین سے 50 ملین بیرل کے درمیان ’پابندیوں کی زد میں آنے والا تیل‘ حوالے کرے گا۔ (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی جانب سے وینزویلا سے دو ارب ڈالر تک کا خام تیل درآمد کرنے کے معاہدے کے اعلان کے بعد بدھ کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 11 سینٹ کم ہو کر 60.59 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 27 سینٹ کمی کے بعد 56.86 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس دونوں میں گذشتہ تجارتی سیشن کے مقابلے میں ایک ڈالر سے زائد کی کمی کا سلسلہ جاری رہا، کیونکہ عالمی مارکیٹ کو رواں سال وافر رسد کی توقع ہے۔
روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ اور وینزویلا کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تحت ابتدائی طور پران تیل بردار جہاز، جو چین جا رہے تھے، کا رخ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
 وینزویلا کے پاس لاکھوں بیرل تیل ٹینکروں اور ذخیرہ ٹینکوں میں موجود ہے جسے وہ دسمبر کے وسط سے برآمد نہیں کر سکا ہے کیونکہ ٹرمپ کی جانب سے برآمدات پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
یہ پابندی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کے خلاف امریکی دباؤ بڑھانے کی مہم کا حصہ تھی، جو اختتام ہفتہ پر امریکی افواج کی جانب سے مادورو کو ایک آپریشن میں پکڑنے پر منتج ہوئی۔
وینزویلا کے اعلیٰ حکام نے مادورو کی گرفتاری کو اغوا قرار دیا اور امریکہ پر ملک کے وسیع تیل ذخائر چرانے کی کوشش کا الزام لگایا۔
صدر ٹرمپ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ وینزویلا امریکہ کو 30 ملین سے 50 ملین بیرل کے درمیان ’پابندیوں کی زد میں آنے والا تیل‘ حوالے کرے گا۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی سٹاؤنوو نے کہا کہ ’وینزویلا سے تیل کی درآمدات سے متعلق ٹرمپ کی پوسٹ نے آج خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا، لیکن اب مارکیٹ کے شرکا کا خیال ہے کہ یہ مقدار اس سے کم ہو سکتی ہے، جس کے باعث قیمتوں میں ابتدائی کمی کے بعد بہتری آئی ہے۔‘
مورگن سٹینلے کے تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ 2026 کے پہلے نصف میں تیل کی مارکیٹ میں یومیہ 30 لاکھ بیرل تک فاضل رسد ہو سکتی ہے، جس کی وجہ گزشتہ سال طلب میں کمزور اضافہ اور اوپیک و غیر اوپیک ممالک کی جانب سے بڑھتی ہوئی پیداوار ہے۔
وینزویلا اپنی نمایاں خام تیل کی قسم ’میری‘ کو اپنی بندرگاہوں پر ترسیل کے لیے برینٹ کے مقابلے میں تقریباً 22 ڈالر فی بیرل کم قیمت پر فروخت کر رہا ہے۔
بی ایم آئی کے تجزیہ کاروں نے کہ ’اس سے درمیانی مدت میں تیل کی متوقع قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، خاص طور پر اگر وینزویلا کی حکومت برقرار رہتی ہے۔‘

شیئر: