کیا صدر ٹرمپ وینزویلا کے مادورو کی طرح مودی کو بھی اغوا کریں گے؟ کانگریس لیڈر
انڈین نیشنل کانگریش کے مرکزی رہنما پرتھوی راج چوان نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ’اغوا‘ کر سکتے ہیں، جیسے انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے ساتھ کیا تھا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق پرتھوی راج چوان، جو کہ مہاراشٹر کے وزیراعلی اور یونین منسٹر رہے ہیں، نے یہ بات ایک انٹرویو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر عائد کی گئی ٹیرف پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نےانڈیا کے ساتھ تجارت کو متاثر کرنے کے لیے ٹیرف کا استعمال کیا۔
پرتھوی چوان نے کہا کہ ’سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا میں وہی کچھ ہوگا جو وینزویلا میں ہوا؟ کیا ٹرمپ ہمارے وزیرِ اعظم کو اغوا کر لیں گے؟‘
بی جے پی کے ترجمان پردیپ بھنڈاری نے انٹرویو کی ایک کلپ ایکس پر شیئر کی اور اس موازنے پر پرتھوی راج چوان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
پردیب بھنڈاری نے کہا کہ ’کانگریس کے رہنما پرتھوی راج چوان بے شرمی سے انڈیا کی صورتحال کا موازنہ وینزویلا سے کر رہے ہیں۔ یہ سوال اٹھا کر کہ ‘کیا جو وینزویلا میں ہوا وہ انڈیا میں ہو سکتا ہے؟’ کانگریس اپنی انڈیا مخالف ذہنیت کو واضح کر رہی ہے۔‘
انٹرویو میں چوان نے وینزویلا کے بحران پر خاموش رہنے پر بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ’وہاں جو کچھ ہوا وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے۔‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی سطح پر ایک خطرناک مثال قائم کر سکتے ہیں۔
پرتھوی راج چوان نے کہا، ’وینزویلا میں جو کچھ ہوا وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے۔ ایک منتخب صدر کو اغوا کیا گیا ہے۔ یہ ایک نہایت سنگین اور تشویشناک ہے کہ کل یہ کسی اور ملک کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ کل یہ انڈیا کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’انڈیا نے ہمیشہ کی طرح اس معاملے پر کچھ نہیں کہا، وینزویلا کے معاملے پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا۔ روس اور چین نے موقف اختیار کیا ہے اور امریکہ کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔‘
پرتھوی راج چوان نے کہا کہ ’یوکرین کی جنگ میں بھی یہی ہوا۔ ہم نے کوئی فریق نہیں چنا، کوئی موقف نہیں اپنایا۔ اسرائیل، حماس معاملے میں بھی ہم نے کوئی واضح موقف نہیں لیا، اور اب ہم یہاں ہیں، امریکیوں سے اتنے خوفزدہ کہ جو کچھ ہوا ہے اس پر تنقید کرنے کی کوشش بھی نہیں کر رہے۔‘
چوان نے کہا کہ یہ پوری کارروائی وینزویلا کے گرد گھومتی ہے کیونکہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں اور امریکہ کی نظر ان پر ہے، خاص طور پر اس بات پر کہ تیل کو کس طرح ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کے کچھ حلقوں نے امریکی اقدام پر تنقید کی ہے، لیکن انڈیا خاموش رہا۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ عالمی برادری نے اس پر تنقید کی ہے اور انڈیا ہمیشہ کی طرح خاموش ہے۔‘
انہوں نے انڈیا کی عالمی طاقت بننے کی خواہش پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ واضح موقف اختیار کیے بغیر نئی دہلی کس طرح دنیا میں قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔
چوان نے کہا، ’اگر ہم کہتے ہیں کہ انڈیا دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے، تو پھر آپ کو موقف اختیار کرنا ہوگا۔ اگر آپ سلامتی کونسل کے مستقل رکن بننا چاہتے ہیں، تو آپ کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس طرح بات نہیں بنے گی۔‘
