امریکی حملے میں 100 افراد ہلاک ہوئے، وینزویلا کے وزیر داخلہ کی تصدیق
جمعرات 8 جنوری 2026 12:19
وینزویلا کے وزیر داخلہ دیوسدادو کیبیو نے کہا ہے کہ سنیچر کو صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے کیے جانے والے امریکی حملے میں 100 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق دارالحکومت کاراکس کی حکومت نے اس سے قبل ہلاک ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی تھی تاہم فوج نے اپنے ہلاک شدگان اہلکاروں میں سے 23 کے ناموں کی فہرست جاری کی تھی۔
وینزویلا کے حکام کا کہنا ہے کہ مادورو کی سکیورٹی ٹیم کی ایک بڑی تعداد کو بے رحمی سے قتل کیا گیا۔
کیوبا کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں اس کے فوجی اور انٹیلی جنس اداروں کے 32 اہلکار مارے گئے۔
وزیر داخلہ دیوسدادو کیبیو نے بتایا کہ نکولس مادورو کی اہلیہ سیلیا فلورس جنہیں ان کے ساتھ ہی حراست میں لیا گیا تھا، کو امریکی حملے کے دوران سر پر چوٹ لگی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نکولس مادورو کی ٹانگ پر بھی چوٹ آئی۔
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیزنے منگل کے روز اس حملے میں مارے جانے والے فوجی اہلکاروں کے لیے ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کیا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے سنیچر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے انجام دی ہے، جس کے نتیجے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو سنیچر کی شام امریکہ کے ایک فوجی اڈے پر پہنچایا گیا اور پھر نیویارک شہر منتقل کر دیا گیا۔
جب مادورو امریکی حکومت کے طیارے سے اترے تو ایف بی آئی کے ایجنٹس نے ان کو گھیر لیا۔ اس کے بعد انہیں امریکہ کی ایک جیل میں منتقل کر دیا گیا۔
