امریکہ کی سکیورٹی خدشات کے باعث اسرائیل سے کچھ سفارتی عملے کو نکلنے کی اجازت
ایران اور امریکہ کے درمیان جمعرات کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ نے سکیورٹی خطرات کے باعث اسرائیل میں موجود اپنے کچھ سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔
امریکی سفارتخانے نے جمعے کو ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی سفارتخانہ حکومتِ امریکہ کے ملازمین اور ان کے خاندانوں کی اسرائیل کے کچھ علاقوں، یروشلم کے پُرانے شہر اور مغربی کنارے کے علاقوں میں سفر پر بغیر پیشگی اطلاع مزید پابندیاں بھی عائد کر سکتا ہے۔
سفارتخانے نے مزید کہا کہ امریکی شہریوں کو چاہیے کہ وہ اس وقت اسرائیل چھوڑنے پر غور کریں کیونکہ کمرشل پروازیں دستیاب ہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان جمعرات کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ بیان عمان کے وزیر خارجہ کی جانب سے کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی کے تناظر میں ممکنہ جنگ کو روکنے کی غرض سے ہونے والے تازہ مذاکرات کے دور کے اختتام پر سامنے آیا ہے۔
عمان کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا ایران پر حملے کی دھمکیاں دے چکے ہیں اور گزشتہ جمعرات امریکی صدر نے تہران کو معاہدے کے لیے 15 دن کی مہلت دی تھی۔
ایران کا مؤقف ہے کہ بات چیت صرف اس کے جوہری پروگرام تک محدود ہونی چاہیے، جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی پشت پناہی پر بھی پابندیاں لگائی جائیں۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ہم نے آج کے دن کا اختتام امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت پر کیا ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ ہفتے ویانا میں تکنیکی سطح پر مزید بات چیت ہوگی۔
