Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’مکہ کا مشروب سوبیا‘ سعودی عرب میں افطاری کا لازمی جز

سعودی عرب میں بیشتر افطاری دسترخوان ’سوبیا‘ مشروب کے بغیر نامکمل تصور کیے جاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ کی گلیوں سے سامنے آنے والا یہ مشروب آج مملکت کے تمام ریجنز میں بے حد مقبول ہے، جسے ’مکہ مشروب‘ بھی کہا جاتا ہے۔
عکاظ اخبار کے مطابق مکہ مکرمہ میں 50 کی دہائی میں رمضان المبارک کے دوران متعارف ہونے والا مشروب ’سوبیا‘ آج اس قدر عام ہو گیا ہے کہ مملکت کے تقریباً تمام علاقوں میں اسے افطاری کے خاص مشروب کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔
رمضان المبارک کے دوران مملکت کا شاید ہی کوئی شہر یا علاقہ ایسا ہو جہاں افطاری سے قبل جگہ جگہ سوبیا کے سٹالز نہ لگتے ہوں۔ ہر شہر میں لوگ اسے تیار کرکے افطاری کے مشروب کے طور پر فروخت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
سوبیا کے سٹالز پر افطاری سے قبل ’روزہ دارو، سوبیا تیار ہے‘ اور ’دل کی ٹھنڈک، سوبیا‘ کی آوزیں سنائی دیتی ہیں، جبکہ سٹالز پر رکھا خوشگوار و خوش ذائقہ گلابی رنگ کا یہ مشروب ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنا ہوتا ہے۔
سعودی عرب میں تیار ہونے والا سوبیا، مصری سوبیا سے قدرے مختلف ہوتا ہے۔ اس کی تیاری میں دودھ، چاول اور ناریل کے علاوہ طائف شہر کی جو بھی ملائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مشروب کو خوش ذائقہ بنانے کے لیے الائچی، کشمش اور دارچینی کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

سوبیا کو ’مکہ مشروب‘ بھی کہا جاتا ہے (فوٹو: عرب نیوز)

بعض لوگ سوبیا میں املی کے شربت کی آمیزش کرتے ہیں تاکہ اس کے ذائقے اور رنگ کو منفرد بنایا جا سکے۔ خالص سوبیا کا رنگ دودھیا مائل سفید ہوتا ہے، تاہم فوڈ کلر ملا کر اسے سرخ کیا جاتا ہے۔ جب کہ بھورے رنگ کے سوبیا میں عموماً املی کا شربت شامل ہوتا ہے۔

شیئر: