رمضان کا مشروب، مکہ سے شروع ہو کرمملکت میں عام ہوگیا، ’سوبیا‘
رمضان کا مشروب، مکہ سے شروع ہو کرمملکت میں عام ہوگیا، ’سوبیا‘
ہفتہ 28 فروری 2026 0:48
سوبیا کا آغاز 50 کی دہائی میں مکہ مکرمہ سے ہوا تھا(فوٹو، ایکس اکاونٹ)
سعودی عرب میں بیشتر افطاری دسترخوان’سوبیا‘ مشروب کے بغیرنامکمل تصور کیے جاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ کی گلیوں سے رواج پانے والا یہ مشروب آج مملکت کے تمام ریجنز میں بے حد مقبول ہے، اسے مکہ مشروب بھی کہا جاتا ہے۔
عکاظ اخبار کے مطابق مکہ مکرمہ میں 50 کی دہائی میں رمضان المبارک کے دوران متعارف ہونے والا مشروب ’سوبیا‘ آج اس قدر عام ہو گیا ہے کہ مملکت کے تقریبا تمام علاقوں میں اسے افطاری کے خاص مشروب کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔
رمضان المبارک کے دوران مملکت کا کوئی شہر یا علاقہ ایسا نہیں جہاں افطاری سے قبل جگہ جگہ سوبیا کے اسٹالز نہ لگے ہوں۔ ہر شہر میں لوگ اسے تیار کرکے افطاری مشروب کے طورپر فروخت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
سوبیا کے اسٹالز پر افطاری سے قبل ’روزہ داروں، سوبیا تیار ہے‘ اور ’دل کی ٹھنڈک ، سوبیا ‘ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں جبکہ اسٹالز پر رکھا خوشگوار و خوش ذائقہ گلابی رنگ کا یہ مشروب ہرایک کی توجہ کا محوربنا ہوتاہے۔
سعودی عرب میں تیار ہونے والا سوبیا، مصری سوبیا سے قدرے مختلف ہوتا ہے(فوٹو،ایکس )
سعودی عرب میں تیار ہونے والا سوبیا، مصری سوبیا سے قدرے مختلف ہوتا ہے، اس کی تیاری میں دودھ ، چاول اور ناریل کے علاوہ طائف شہر کی جو ملائی جاتی ہے اس کے علاہ مشروب کو خوش ذائقہ بنانے کے لیے الائچی ، کشمش اور دارچینی کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔
بعض لوگ سوبیا میں املی کے شربت کی آمیزش کرتے ہیں تاکہ اس کے ذائقے اور رنگ کو منفرد بنایا جائے، خالص سوبیا کا رنگ دودھیا مائل سفید ہوتا ہے جبکہ اس میں فوڈ کلر بھی ملا کر اسے سرخ رنگ بھی دیا جاتا ہے جبکہ براون رنگ کے سوبیا میں املی کا شربت شامل ہوتا ہے۔