’طائف کی بے مثال مہک‘: ایک تولہ عرقِ گلاب کے لیے 12 ہزار گلاب درکار
طائف کے گلاب اپنی بے مثال مہک کی وجہ سے بے حد مشہور ہیں جن کی دیکھ بھال انتہائی باریک بینی اور بھر پور توجہ سے کی جاتی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ان گلابوں سے کشید کردہ عرق سے تیار کی جانے والی مختلف مصنوعات مملکت میں بیش قیمت حیثیت اور اہمیت کی حامل ہیں۔
نہ صرف ان گلابوں کی نگہداشت میں احتیاط برتی جاتی ہے بلکہ ان کی کاشت اور دیگر مصنوعات میں ان کے استعمال کے لیے تیاری کے مراحل پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
ان ’گلابوں کے پرفیوم‘ سے تیار ہونے والی مصنوعات کا اپنا ایک خاص اور نمایاں مقام ہے کیونکہ زراعت اور ثقافت کی ایک علامت کے طور پران کی جڑیں علاقے کی میراث اور سیاحت میں بڑی گہری حد پائی جاتی ہیں۔
طائف میں گلابوں کی کاشت جن فارمز میں کی جاتی ہے ان کی تعداد 910 سے زیادہ ہے۔

یہ فارمز الھدا، الشفا، وادیِ محرم، الواحات، الواحد اور وادیِ لیہ تک پھیلے ہوئے ہیں جہاں 270 ہیکٹر زرعی زمین پر گلابوں کی تقریباً 11،44،000 جھاڑیاں ہیں۔
یہ فارمز سالانہ تقریباً 550 ملین گلاب پیدا کرتے ہیں۔ ان گلابوں کی کاشت کا دورانیہ بھی مختصر ہوتا ہے جو مارچ کے مہینے کے شروع سے اپریل کے آخر تک جاری رہتا ہے۔
یعنی مجموعی طور پر صرف 45 دن، جن کے دوران ان گلابوں کو بروقت شاخوں سے توڑ کر محفوظ جاتا ہے تاکہ ان کے عرق اور اس سے تیار ہونے والی دیگر مصنوعات کسی بھی طرح متاثر نہ ہوں۔

طائف کے ان گلابوں کی کاشت سے 20 ہزار تولہ گلاب کا عرق پیدا ہوتا ہے۔ ایک تولہ عرقِ گلاب کے لیے لگ بھگ 12 ہزار گلاب درکار ہوتے ہیں۔
اس کام کے لیے گلابوں کو صبح سویرے ہاتھوں سے شاخوں سے توڑا جاتا ہے اور 24 گھنٹوں کے اندر اندر ان کو کشید کرنا یا ان کا عرق نکالنا لازمی ہے تاکہ مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے ان کا خالص پن اور خوشبو کی اعلٰی کوالٹی برقرار رہے۔
