Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر مسافروں کی تعداد 8 کروڑ 40 لاکھ سے متجاوز، نیا ریکارڈ

ہیتھرو ایئرپورٹ سے صرف گزشتہ ماہ دسمبر میں قریباً 72 لاکھ مسافروں نے یہاں سے سفر کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ نے مسافروں کی تعداد کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں جس کے بعد اب یہاں ایک نئی رن وے کی تعمیر سمیت وسیع پیمانے پر توسیعی منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف ہی کے مطابق پیر کو جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے دوران مجموعی طور پر 8 کروڑ 40 لاکھ سے زائد مسافروں نے اس برطانوی ہوائی اڈے کا رخ کیا جو کہ اس کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
 ہیتھرو جو 2024 میں مسافروں کے لحاظ سے یورپ کا مصروف ترین ایئرپورٹ رہا، اب ایک نئی رن وے پر کام شروع کر رہا ہے جس کا مقصد برطانیہ کے لیے تجارت اور معاشی ترقی کی نئی راہیں کھولنا ہے۔
ایئرپورٹ کے چیف ایگزیکٹو تھامس وولڈ بائی کا کہنا ہے کہ یہ توسیع ملک کے دیگر حصوں اور دنیا کے ساتھ رابطوں کو مزید مستحکم کرے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ استنبول ایئرپورٹ نے بھی گزشتہ ہفتے اپنے اعداد و شمار جاری کیے تھے جن کے مطابق وہاں 2025 میں 8 کروڑ 44 لاکھ مسافر آئے جو ہیتھرو کے 8 کروڑ 45 لاکھ کے مقابلے میں معمولی فرق سے کم تھے۔
ہیتھرو کے حکام نے بتایا کہ صرف گزشتہ ماہ دسمبر میں قریباً 72 لاکھ مسافروں نے یہاں سے سفر کیا جو کسی بھی سال کے آخری مہینے میں مسافروں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

تیسرے رن وے کی تعمیر کے بعد ایئرپورٹ کی سالانہ گنجائش 15 کروڑ مسافروں تک پہنچ جائے گی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

برطانوی حکومت کی جانب سے برسوں کی قانونی پیچیدگیوں کے بعد منظوری ملنے پر، اگست میں ایئرپورٹ انتظامیہ نے 49 ارب پاؤنڈ (66 ارب ڈالر) کے بھاری سرمایہ کاری کے منصوبے کی نقاب کشائی کی تھی۔
اس منصوبے میں تیسری رن وے کی تعمیر بھی شامل ہے جس کے بعد ایئرپورٹ کی سالانہ گنجائش 15 کروڑ مسافروں تک پہنچ جائے گی۔
یورپ میں اس طرح کی توسیع کو ایک غیرمعمولی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ایک طرف کئی یورپی ممالک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تو دوسری طرف کووڈ کے دور کے بعد سے ہوائی سفر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنا بھی ایک سٹرٹیجک ضرورت بن چکا ہے۔
اس منصوبے کے تحت نئی رن وے پر 21 ارب پاؤنڈ لاگت آئے گی اور توقع ہے کہ یہاں سے پروازیں ایک دہائی کے اندر اڑان بھرنا شروع کر دیں گی جبکہ بقیہ نجی سرمایہ کاری ایئرپورٹ کو جدید بنانے اور دیگر سہولیات کی توسیع پر خرچ کی جائے گی۔

شیئر: