یہ ایک ایسا سفر تھا جو خوابوں کی طرح شروع ہوا مگر چند گھنٹوں بعد تاریخ کے سب سے ہولناک فضائی سانحات میں بدل گیا۔
مسافروں نے انٹارکٹیکا کے برف پوش مناظر دیکھنے، یادگار تصاویر بنانے اور زندگی بھر کا تجربہ حاصل کرنے کے لیے ٹکٹ خریدا تھا مگر انہیں کیا خبر تھی کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر بن جائے گا۔
28 نومبر 1979 کو ’ایئر نیوزی لینڈ‘ کی سیاحتی پرواز ’ٹی ای 901‘ ایک خوفناک غلطی، ناقص رابطے اور قدرتی بصری دھوکے کا شکار ہو کر انٹارکٹیکا کے فعال آتش فشاں ماؤنٹ ایریبس سے ٹکرا گئی۔ چند لمحوں میں سب کچھ ختم ہو گیا اور 257 زندگیاں ختم ہو گئیں۔
مزید پڑھیں
یہ حادثہ نہ صرف نیوزی لینڈ کی تاریخ کا بدترین سانحہ تھا بلکہ آج بھی ہوا بازی کی دنیا کے لیے ایک لرزہ خیز یاد دہانی ہے۔
’ایئر نیوزی لینڈ‘ نے سنہ 1977 میں انٹارکٹیکا کے لیے تفریحی پروازوں کا آغاز کیا تھا۔ ان پروازوں کا مقصد مسافروں کو برفانی براعظم کے خوب صورت مناظر دکھانا تھا۔ یہ سفر قریباً 11 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا اور جدید ’ڈی سی 10‘ طیاروں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔
پروازوں میں ماہرین کی جانب سے تبصرے بھی شامل ہوتے تھے، جس کی وجہ سے یہ سفر بہت مقبول تھا۔
حادثے کے روز طیارے کی کمان کپتان جم کولنز اور فرسٹ آفیسر گریگ کیسن کے پاس تھی۔ اگرچہ انہوں نے پہلے یہ راستہ استعمال نہیں کیا تھا مگر انہیں مکمل بریفنگ دی گئی تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ طیارہ میک مرڈو ساؤنڈ کے اوپر سے گزرے گا جو ہموار اور محفوظ علاقہ سمجھا جاتا تھا۔
تاہم، روانگی سے قبل ’ایئر نیوزی لینڈ‘ کے نیویگیشن ڈیپارٹمنٹ نے فلائٹ کے کوآرڈینیٹس میں معمولی سی تبدیلی کی۔ یہ تبدیلی 31 میل مشرق کی طرف تھی، جس کے باعث طیارہ میک مرڈو ساؤنڈ کے بجائے روس آئی لینڈ کی طرف جا رہا تھا، جہاں ماؤنٹ ایریبس واقع ہے، تاہم اس تبدیلی کی اطلاع پائلٹس کو نہیں دی گئی۔
پرواز کئی گھنٹوں تک معمول کے مطابق جاری رہی۔ انٹارکٹیکا کے قریب پہنچ کر پائلٹس نے مسافروں کو بہتر نظارے دکھانے کے لیے طیارہ دو ہزار فٹ کی بلندی تک نیچے لانے کا فیصلہ کیا۔
47 years ago, Air New Zealand operated the ultimate sightseeing trip: an 11-hour flight from Auckland to Antarctica and back.
On November 28, 1979, Flight 901 carried 257 passengers expecting champagne and views of the ice. However, a navigation error occurred the night before -… pic.twitter.com/7TMPH0IKOQ
— Dr. Lemma (@DoctorLemma) January 23, 2026
یہ عمل ان سیاحتی پروازوں میں عام سمجھا جاتا تھا۔ پائلٹس کو یقین تھا کہ وہ ہموار برفانی میدان کے اوپر پرواز کر رہے ہیں۔
مگر اصل خطرہ ایک قدرتی بصری دھوکا تھا جسے ’وائٹ آؤٹ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں برف اور آسمان ایک ہی رنگ میں نظر آتے ہیں، جس سے فاصلے اور بلندی کا اندازہ ختم ہو جاتا ہے۔ پائلٹس کو سامنے نظر آنے والی سفید سطح برفانی میدان لگی، حالانکہ وہ دراصل ماؤنٹ ایریبس کی ڈھلوان تھی۔
دوپہر کے قریب طیارے کا وارننگ سسٹم بجا، مگر ردعمل کا وقت نہ ہونے کے برابر تھا۔ صرف چند سیکنڈ بعد طیارہ پوری رفتار سے پہاڑ سے ٹکرا گیا اور طیارے کا کوئی بھی مسافر زندہ نہ بچ سکا۔
یہ سانحہ نیوزی لینڈ کے لیے ایک قومی صدمہ تھا۔
بعدازاں تحقیقات نے ناقص رابطے، انسانی غلطیوں اور وائٹ آؤٹ کو اس حادثے کی بڑی وجوہات قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد ہوا بازی کے نظام میں کئی اہم حفاظتی تبدیلیاں کی گئیں مگر ماؤنٹ ایریبس کا سانحہ آج بھی یاد دلاتا ہے کہ معمولی غلطیاں کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔












