مدینہ میں مٹی سے برتن سازی کا فن تخلیقی معیشت کا اہم محرک
قدیم ترین دستکاریوں میں شمار ہونے والا مٹی سے برتن سازی کا فن انسانی تاریخ سے زمانۂ قدیم سے جڑا ہوا ہے۔ یہ روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے ترقی کرتے ہوئے ایک ایسے ثقافتی ورثے میں تبدیل ہو چکا ہے جو معاشروں کی شناخت اور تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق آج بھی مٹی سے برتن سازی کا فن ایک اہم روایتی ہنر کے طور پر تخلیقی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔ یہ فن اب صرف ثقافتی ورثے کے تحفظ تک محدود نہیں رہا بلکہ جدت کا ایک میدان بن چکا ہے جہاں ہنرمند روایتی اور جدید ڈیزائن کو یکجا کرتے ہوئے منفرد فن پارے پیش کر رہے ہیں، جو مقامی اور عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔
مدینہ منورہ کے فنکار عمار سعید جبرتی کہتے ہیں ان کے سفر کا آغاز اپنے سٹوڈیو میں مٹی کو جدید فن پاروں کا حصہ بنانے سے ہوا۔ اب وہ مٹی کے برتن سازی کے فن کو روایتی باورچی خانے کے برتنوں اور کلاسیکی ظروف، جیسے پانی پینے کے مٹکوں، سے ہٹ کر نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر نوجوانوں میں مٹی سے برتن سازی کا فن سیکھنے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ ابتدائی تعلیمی مراحل میں اس ہنر کو متعارف کرانے سے شعور اجاگر کرنے اور مہارتوں کو بتدریج فروغ دینے میں مدد ملی ہے۔
اس شعبے کو ان اقدامات کے ذریعے مزید فروغ دیا جا رہا ہے جو ہنرمندوں کی سرپرستی، نمائشوں کے انعقاد اور تربیت کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ کاریگر اپنی مہارت نئی نسل تک منتقل کرکے اور جدید تقاضوں کے مطابق تکنیکیں اپناتے ہوئے اس ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں، جبکہ اس کی ثقافتی اہمیت کو بھی برقرار رکھا جا رہا ہے۔

عمار سعید جبرتی نے تجویز دی کہ ’سکولوں میں اس فن کو اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ کلاسوں کا اہتمام کیا جائے تاکہ صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے۔‘