Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا فلپائنی فوڈ انفلوئنسر کی موت ’ڈیول کریب‘ نامی زہریلا کیکڑا کھانے سے ہوئی؟

’ڈیول کریب‘ میں جان لیوا زہر پایا جاتا ہے (فوٹو: وکیپیڈیا)
فلپائن میں ایک افسوسناک واقعے کے بعد حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سمندری حیات خصوصاً زہریلے کیکڑوں کو کھانے سے گریز کریں۔
’نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق 51 سال کی فوڈ انفلوئنسر ایما امِٹ مبینہ طور پر ’ڈیول کریب‘ نامی زہریلا کیکڑا کھانے کے بعد موت ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق ایما امِٹ نے چار فروری کو اپنے سوشل میڈیا ویڈیو کے لیے پالاون کے ساحلی شہر پورٹو پرنسِیسا کے قریب مینگروو جنگل سے مختلف شیلفش (صدف نما جاندار) جمع کیے۔
ویڈیو میں انہیں اپنے دوستوں کے ہمراہ سمندری گھونگھے اور دیگر سمندری جاندار ناریل کے دودھ میں پکا کر کھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان کے پڑوسیوں کے مطابق ویڈیو بنانے کے اگلے ہی دن ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور انہیں شدید جھٹکے لگنے لگے جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ بے ہوش ہو گئیں اور ان کے ہونٹ نیلے پڑ گئے، جو شدید زہر کے اثرات کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی تاہم وہ چھ فروری کو، یعنی زہریلا سمندری جاندار کھانے کے دو روز بعد چل بسیں۔
مقامی گاؤں لُوزویمِنڈا کے سربراہ لیڈی جیمنگ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے حکام کو متوفیہ کے گھر بھیجا، جہاں کچرے میں چمکدار خول والے ’ڈیول کریب‘ کی باقیات ملیں۔
ماہرین کے مطابق یہ کیکڑا انڈو پیسیفک ریف علاقوں میں پایا جاتا ہے اور اس میں خطرناک نیورو ٹاکسنز، جیسے سیگزٹوکسن اور ٹیٹروڈوٹوکسن موجود ہوتے ہیں۔ یہی زہر پفر فش (فُگو مچھلی) میں بھی پایا جاتا ہے اور چند گھنٹوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
گاؤں کے سربراہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایما اور ان کے شوہر دونوں تجربہ کار ماہی گیر تھے، اس لیے یہ واقعہ مزید حیران کن ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی افسوسناک ہے، انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ ڈیول کریب خطرناک ہوتا ہے۔ وہ سمندر کے کنارے رہتے تھے، اس کے باوجود انہوں نے اسے کیوں کھایا؟ یہی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔‘
حکام نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے خطرناک سمندری جانداروں کو کھانے سے مکمل پرہیز کریں۔ ان کے مطابق اس زہریلے کیکڑے کے باعث شہر میں پہلے بھی اموات ہو چکی ہیں۔ ساتھ ہی متوفیہ کے ساتھ موجود افراد کی صحت کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی ممکنہ علامت کی صورت میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

شیئر: