فلپائن میں ایک افسوسناک واقعے کے بعد حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سمندری حیات خصوصاً زہریلے کیکڑوں کو کھانے سے گریز کریں۔
’نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق 51 سال کی فوڈ انفلوئنسر ایما امِٹ مبینہ طور پر ’ڈیول کریب‘ نامی زہریلا کیکڑا کھانے کے بعد موت ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق ایما امِٹ نے چار فروری کو اپنے سوشل میڈیا ویڈیو کے لیے پالاون کے ساحلی شہر پورٹو پرنسِیسا کے قریب مینگروو جنگل سے مختلف شیلفش (صدف نما جاندار) جمع کیے۔
مزید پڑھیں
-
لاہور میں 20 سال بعد بسنت: ’اب یادوں کی پٹاری کھل چکی تھی‘Node ID: 900562
ویڈیو میں انہیں اپنے دوستوں کے ہمراہ سمندری گھونگھے اور دیگر سمندری جاندار ناریل کے دودھ میں پکا کر کھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان کے پڑوسیوں کے مطابق ویڈیو بنانے کے اگلے ہی دن ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور انہیں شدید جھٹکے لگنے لگے جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ بے ہوش ہو گئیں اور ان کے ہونٹ نیلے پڑ گئے، جو شدید زہر کے اثرات کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی تاہم وہ چھ فروری کو، یعنی زہریلا سمندری جاندار کھانے کے دو روز بعد چل بسیں۔
مقامی گاؤں لُوزویمِنڈا کے سربراہ لیڈی جیمنگ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے حکام کو متوفیہ کے گھر بھیجا، جہاں کچرے میں چمکدار خول والے ’ڈیول کریب‘ کی باقیات ملیں۔
ماہرین کے مطابق یہ کیکڑا انڈو پیسیفک ریف علاقوں میں پایا جاتا ہے اور اس میں خطرناک نیورو ٹاکسنز، جیسے سیگزٹوکسن اور ٹیٹروڈوٹوکسن موجود ہوتے ہیں۔ یہی زہر پفر فش (فُگو مچھلی) میں بھی پایا جاتا ہے اور چند گھنٹوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
A food influencer named Emma Amit (51) from the Philippines (Palawan/Puerto Princesa area) reportedly died after eating a highly toxic "devil crab" while filming content for social media. She foraged it in a mangrove forest on February 4, 2026, ate it (cooked in coconut milk),… pic.twitter.com/Eb0PrXq7zt
— NO CONTEXT POSTS (@PostsNoContext) February 12, 2026












