Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ویژن 2030 کو سراہتا ہوں‘، بنگلہ دیشی وزیراعظم کا خلیجی ملکوں سے تعلقات مضبوط بنانے کا عزم

بی این پی نے 12 فروری کے عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ فوٹو: اے ایف پی
جلاوطنی میں 17 برس گزارنے کے بعد وطن واپس آنے والے طارق رحمان نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے بنگلہ دیش کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا ہے اور اُن کو اپنے والدین کی سیاسی وراثت اور فوری معاشی اور سیاسی چیلنجوں کا سامنا ہے۔
عام انتخابات میں اُن کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی زبردست کامیابی سے دو دن قبل طارق رحمان نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کے ویژن 2030 کے مداح ہیں۔
’سعودی عرب ہمارے دیرینہ دوستوں میں سے ایک ہے۔ میں سعودی ویژن 2030 کی تعریف کرتا ہوں، اور سعودی عرب کی قیادت کے ساتھ کام کرنے کا خلوص دل سے منتظر ہوں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’بی این پی کے ہمیشہ اسلامی دنیا کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے ہیں، خاص طور پر خلیجی ممالک امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے ساتھ، اور میں خلیجی ملکوں اور ان کی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں تاکہ باہمی اعتماد کے ساتھ ایک طویل المدتی شراکت داری قائم کی جا سکے۔‘
طارق رحمان کی جماعت نے 12 فروری کے عام انتخابات میں 300 میں سے 209 پارلیمانی نشستوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ اس طرح بی این پی دو دہائیوں کے بعد اقتدار میں واپس آئی ہے۔
بی این پی کی بنیاد طارق رحمان کے والد سابق صدر ضیاء الرحمان نے رکھی تھی جو 1971 کی جنگ آزادی کے ہیرو تھے۔ 1981 میں ان کے قتل کے بعد طارق رحمان کی والدہ خالدہ ضیاء نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور 1991 اور پھر 2001 میں وزیراعظم منتخب ہوئیں۔
طارق رحمان اور ان کی کابینہ کے ارکان نے منگل کو حلف اٹھایا۔ پُرتشدد احتجاج کے بعد شیخ حسینہ واجد کی اقتدار سے بے دخلی ہوئی تھی۔ اُن کے بعد عبوری انتظامیہ نے 18 ماہ تک بنگلہ دیش پر حکومت کی۔ بی این پی کی حریف جماعت عوامی لیگ نے 15 سال تک مسلسل حکومت کی تھی مگر اس بار پابندی لگائے جانے کے بعد عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی۔
سنہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے عوامی احتجاج میں حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا اور سابق وزیراعظم کو پڑوسی ملک انڈیا فرار ہونا پڑا تھا۔
سعودی حکومت نے طارق رحمان کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے بنگلہ دیش کے عوام کی خوشحالی کے لیے نیک خواہشات ظاہر کیں۔

سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز سنہ 1975 میں ہوا تھا۔ فائل فوٹو: اے پی

بنگلہ دیش اور سعودی عرب نے اگست 1975 میں باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے اور طارق رحمان کے والد کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے بنگلہ دیشی سفیر نے 1976 کے اواخر میں اپنی اسناد پیش کیں۔ اُسی سال بنگلہ دیش نے مزدوروں، انجینئروں، ڈاکٹروں اور اساتذہ کو مملکت میں کام کرنے کے لیے بھیجنا شروع کیا۔
اس وقت 30 لاکھ سے زیادہ بنگلہ دیشی کارکن سعودی عرب میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ یہ مملکت میں سب سے بڑا غیرملکی کارکنوں کا گروپ ہے اور ملک سے باہر سب سے بڑی بنگلہ دیشی کمیونٹی بھی قرار دی جاتی ہے۔
طارق رحمان نے کہا کہ ’مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد صدر ضیاءالرحمٰن عہدہ صدارت پر تھے تو ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا آغاز ہوا تھا۔ میری والدہ مرحومہ بیگم خالدہ ضیاء کے دور میں بحیثیت وزیراعظم یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔‘

 

شیئر: