ٹی 20 ورلڈ کپ میں 15 فروری کو انڈیا سے ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ٹیم نے بدھ کو نمیبیا کو 102 رنز سے ہرا کر سپر ایٹ مرحلے تک رسائی حاصل کر لی ہے۔
پاکستان کی جانب سے صاحبزادہ فرحان کی 57 گیندوں پر سینچری اور شاداب خان کے آخری اوورز میں 36 رنز نے اہم کردار ادا کیا اور بات 200 رنز کے ہدف تک پہنچی۔
اس میچ سے قبل ٹاس جیتنے کے بعد کپتان سلمان علی آغا نے کہا تھا کہ پاکستان نے میچ کے لیے دو اہم تبدیلیاں کی ہیں۔
مزید پڑھیں
سلمان علی آغا نے کہا سلمان مرزا اور خواجہ نافع کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ شاہین شاہ آفریدی اور ابرار احمد کو اس میچ میں شامل نہیں کیا جا رہا۔
تاہم سری لنکا میں جاری ایونٹ کے دوران نمیبیا کے خلاف میچ میں بابر اعظم کو دوبارہ ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا جس پر شائقینِ کرکٹ کی جانب سے ایک بار پھر شدید تنقید دیکھنے میں آئی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر سلیم خالق نامی صارف نے پاکستان اور نمیبیا میچ کے دوران لکھا کہ ’شاہین آفریدی کے ساتھ آج بابر اعظم کو بھی ڈراپ کرنا چاہیے تھا۔‘

اسی طرح ایک اور صارف نے ٹیم کی سلیکش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایک بابر کو بچانے کے لیے پوری پلئینگ الیون کی بلی چڑھا دو۔‘
ایک اور صارف علی ممتاز نے لکھا ہے کہ پاکستان اور نمیبیا کے درمیان اہم میچ میں ٹیم مینجمنٹ نے بابر اعظم اور شاداب خان کو دوبارہ موقع دیا تاکہ وہ چھوٹی ٹیم کے خلاف رنز بنا کر اپنی کارکردگی کو بہتر کریں۔
دوسری جانب ایک صارف سیراج فروز نے شاداب پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’اس کو کب ڈراپ کریں گے؟‘

کچھ صارفین بابر اعظم کو نمیبیا کے خلاف بیٹنگ کا موقع نہ ملنے پر بھی طنزیہ تبصرے کرتے نظر آئے۔

بابر اعظم کی بیٹنگ لائن اپ میں تنزلی پر شاداب خان کا جواب:
این ڈی ٹی وی سپورٹس کے مطابق پاکستان کے آل راؤنڈر شاداب خان نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو باتوں کو دل پر نہیں لینا چاہیے کیونکہ ہر کوئی پاکستان کے لیے میچ جیتنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بیان انہوں نے میچ کے بعد دیا جہاں بابر اعظم کو نمیبیا کے خلاف بیٹنگ کے لیے نہیں بھیجا گیا جبکہ شاہین شاہ آفریدی پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں تھے۔
شاداب خان نے میچ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، 'ایک پیشہ ور کھلاڑی کی حیثیت سے آپ ان باتوں کو دل پر نہیں لے سکتے۔ ٹیم کا ماحول اور پیغامات بالکل واضح ہیں، اس لیے کسی بھی کھلاڑی کے لیے یہ مسئلہ نہیں ہے۔ ہر کوئی ٹیم کو جتوانے کی کوشش کر رہا ہے۔'
انہوں نے مزید کہا، 'سپر ایٹس آسان نہیں ہوں گے۔ وہاں دباؤ والے میچز ہوں گے۔ آخرکار آپ صرف اُن چیزوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں جو آپ کے اختیار میں ہیں، اس لیے انہی پر توجہ دینی چاہیے۔'
جب ان سے مزید سوال کیا گیا کہ بابر اعظم کو بیٹنگ کے لیے کیوں نہیں بھیجا گیا اور کیا ٹیم سلیکشن میں کوئی مسئلہ ہے، تو شاداب نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ یہ تجربات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، 'کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ پاکستان اتنے تجربات کرتا ہے؟ میرا نہیں خیال۔ ہمارے پیغامات بالکل واضح ہیں۔ اگر آپ بابر کے نہ بھیجے جانے کی بات کر رہے ہیں تو وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کا کردار کب سامنے آتا ہے۔'
شاداب کا کہنا تھا، 'ہر کھلاڑی کے لیے ہدایات واضح ہیں۔ ٹیم میں تبدیلیاں حالات کے مطابق کی جاتی ہیں، اور یہی ہو رہا ہے۔'












