ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ کے دوران کسی بھی ملک میں سابق کھلاڑی اپنی ٹیم کی خامیوں پر بات تو کرتے ہیں، مگر ٹیم کا مورال توڑنے کی حد تک نہیں جاتے۔ پاکستان میں مگر صورتحال مختلف ہے۔ اب یہی دیکھ لیں :’سلمان علی آغا کو شین وارن جیسا سپنر دے دیں، یہ میچ ہار جائے گا، مرلی دھرن جیسا بولر دیں یہ میچ ہار جائے گا، اسے وسیم اکرم، وقار یونس دے دیں یہ میچ ہار جائے گا۔‘
یہ ’عظیم الشان‘ تبصرہ پاکستان کے ایک سابق کرکٹر، سابق کپتان راشد لطیف کا ہے جو انہوں نے ایک بڑے نیشنل چینل پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا۔
مزید پڑھیں
-
اس کھیلنے سے بہتر تھا بائیکاٹ ترا، عامر خاکوانی کا تجزیہNode ID: 900701
آپ صرف یہ سوچ لیں کہ یہی سلمان علی آغا اس وقت قومی ٹیم کا کپتان ہے، قومی ٹیم ورلڈ کپ کھیل رہی ہے۔ سپر ایٹ کا مرحلہ اسے درپیش ہے، اگر یہ اپنے میچز جیت لے تو سیمی فائنل پہنچ سکتی ہے، جہاں پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ فائنل تک بھی جایا جا سکتا ہے اور اگر فائنل اچھا کھیلا جائے تو ورلڈ کپ جیتنا بھی ممکن ہے۔ یعنی اصولی اور نظری طور پر یہ سب کچھ ممکن ہے۔ ایسی صورت حال میں کیا ایک بڑے سابق کرکٹر، سابق کپتان اور بااصول ہونے کے دعوے دار کھلاڑی کو دوران ورلڈ کپ ایسا سخت، ایسا حوصلہ شکنی والا تبصرہ کرنا چاہیے؟
اگلا سوال صرف یہی ہے کہ کیا کسی دوسرے ملک میں بھی ایسا ہو رہا ہے؟ دیگر ممالک کی ٹیمیں بھی اپنے میچز ہار رہی ہیں۔ انگلینڈ بمشکل دوسرے راؤنڈ میں پہنچی، سری لنکا زمبابوے سے میچ ہار گئی۔ آسٹریلیا جیسی ٹیم تو پہلے راؤنڈ ہی سے آؤٹ ہو گئی۔ کیا ان کے سابق کرکٹرز نے کپتان مارش کے بارے میں یا دیگر اہم کھلاڑیوں کے بارے میں ایسے تذلیل آمیز تبصرے کیے ہیں جو کہ پاکستانی سابق کرکٹرز کر رہے ہیں؟ جواب ہے، نہیں نہیں نہیں۔
عام لوگ تلخ اور سخت تبصرے کرتے رہتے ہیں، میڈیا کے لوگ بھی کچھ نہ کچھ کہہ دیتے ہیں، مگر بہرحال سابق کرکٹرز جو کہ خود میچز کھیلتے رہے، ہائی پروفائل ٹورنامنٹ میں موجود پریشر سے واقف ہوتے ہیں، وہ ایسا نہیں کرتے۔ وہ صرف پروفیشنل رائے دیتے، تکنیکی امور پر بات کرتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے کہ ٹیم کا مورال ڈاؤن نہ کیا جائے۔
پاکستان میں مگر ایک جمعہ بازار سا کھلا ہوا ہے۔ ہر ٹی وی چینل نے سابق کرکٹرز کا ایک ایک دستہ اپنے پاس تعینات کر رکھا ہے، ان کی معاونت کے لیے ایک عدد ہوسٹ /اینکر جو ہمہ وقت قومی ٹیم پر تذلیل آمیز فقرے اچھالتا، سستی عامیانہ جگتیں کرتا رہے۔ ایک چینل پر راشد لطیف، محمد عامر، احمد شہزاد بیٹھے ہیں۔ جن میں سے ایک کو یہ شکوہ کہ مجھے پی ایس ایل میں کسی نے سلیکٹ نہیں کیا، کسی کو یہ اعتراض کہ میرے عظیم ٹیلنٹ کا کسی نے فائدہ نہیں اٹھایا جبکہ پرانے کرکٹر کو تو خیر کبھی کسی نے پی ایس ایل میں موقع دیا اور نہ کبھی کرکٹ بورڈ نے انہیں پوچھا تو خود ترسی، فرسٹریشن کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔

ایک اور چینل پر شعیب ملک خود اینکر بنے بیٹھے ہیں، ان کے ساتھ راشد لطیف کے ایک ساتھی باسط علی اور سابق وکٹ کیپر کامران اکمل ہیں۔ کسی اور جگہ پر محمد حفیظ اور بعض دوسرے بیٹھے ہیں۔ ہر جگہ کم وبیش یہی معاملہ چل رہا ہے۔
سابق کرکٹرز کو لاکھوں بلکہ شائد کئی کئی ملین روپے کرکٹ ٹرانسمیشن کے مل رہے ہیں۔ آج کل چونکہ دھندا ہے ہی ویوز لینے کا اور ویوز تو اختلافی، تند وتیز، جارحانہ، بے لحاظ تبصروں سے ملتے ہیں تو ہمارے یہ سابق کرکٹرز دل کھول کر تیر برسا رہے ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ قومی ٹیم اس وقت اتنا بڑا اور اہم ٹورنامنٹ کھیل رہی ہے۔ اسے کھیل کر واپس تو آ لینے دو، پھر جتنا چاہے پوسٹ مارٹم کر لینا۔ اس وقت تو ٹیم کو سپورٹ کیا جائے۔ اگر سپورٹ نہیں کر سکتے تو کم از کم پروفیشنل، غیرجانبدار، بے لاگ رائے دینے کی عادت ڈالی جائے جیسا کہ انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ وغیرہ کے ٹی وی چینلز پر سابق کرکٹرز، ماہرین اپنے تبصروں میں مثال پیش کر رہے ہیں۔
یہ سابق کرکٹرز ہوں یا پھر ڈاکٹر نعمان نیاز جیسے غیر کرکٹر مگر بزعم خود عظیم تجزیہ نگار، ان تمام نے تنقید بلکہ تذلیل کی حد کر رکھی ہے۔ بابر اعظم پر سخت ترین تنقید جاری ہے، شاداب خان کو طعنے دیے جا رہے ہیں۔ آخر شاداب خان سے رہا نہیں گیا، اس نے نمیبیا کا میچ جیت کر جوابی طعنہ دے ڈالا کہ ہم نے چلو انڈیا کو ورلڈ کپ میں ایک بار بری طرح ہرا تو رکھا ہے اور گذشتہ پانچ برس میں ایک ورلڈ کپ فائنل اور ایک دو سیمی فائنل بھی کھیلے ہیں، سابق کرکٹرز کو تو کبھی انڈیا کو ہرانے کی توفیق بھی نہ ہوئی۔ اس پر یہ سابق کھلاڑی مزید چیں بہ چیں ہوئے۔ ابھی شکر کریں کہ سلمان آغا نے اپنی زبان نہیں کھولی، ورنہ کسی روز کوئی میچ جیت کر وہ بھی ان کا نام لے کر تنقید کر دے گا۔ صاحبزادہ فرحان پر یہی لوگ تنقید کرتے رہے، اسے باہر بٹھانے کا مشورہ دیتے رہے، اس نے سینچری بنائی تو اب سب چپ ہوئے پڑے ہیں۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ تنقید نہ کی جائے۔ ضرور کریں، مگر اس کا کچھ ڈھب، سلیقہ اور طریقہ ہوتا ہے۔ پھر تنقید کرتے ہوئے خود کو بھی، اپنے ماضی کو بھی دیکھ لیا جائے۔
جس سابق کپتان پر فیک کیچ کو اصل کیچ بنا کر پیش کرنے پر آئی سی سی کی جانب سے پانچ میچز کی پابندی لگی ہو۔ پاکستان کا واحد کھلاڑی جسے اس نوعیت کی سزا ملی ہو، وہ اگر اخلاقی بھاشن دے تو کتنا عجیب لگے گا۔ اسی طرح جن کھلاڑیوں نے میچ فکسنگ کی، وہ پکڑے گئے، گرفتار ہوئے، جیل کاٹنی پڑی، کئی برسوں کی پابندی لگی۔ کوئی ڈھنگ کا بورڈ ہوتا تو زندگی بھر کرکٹ نہ کھیل پاتے۔ بورڈ کی کمزوری کہ ایک میچ فکسر کو نوجوان کہہ کر دوبارہ لیا اور پھر اسی نے ٹی20 لیگز کی رقم کی خاطر قومی ٹیم کو خیر باد کہہ دیا گیا۔ آج وہی بولر ہمیں بتا رہا ہے کہ ملک وقوم کے لیے پرفارم کیسے کیا جاتا ہے؟ اے سبحان اللہ۔
جس وکٹ کیپر سے کبھی کیچ پکڑا نہیں جاتا تھا۔ انٹرنیشنل میڈیا مذاق اڑاتا تھا کہ شاید اس کے ہاتھوں میں چھید ہیں، وہ آج اچھی فیلڈنگ کے گُر بتاتا ہے۔ جس کھلاڑی پر ہمیشہ ڈریسنگ روم میں سازشیں کرنے کا الزام لگتا رہا ہو، جس کے بارے میں میڈیا رپورٹیں ہوں کہ یونس خان جیسے جینٹل مین کرکٹر اور کپتان کے خلاف سازش کی اور دیگر کرکٹرز سے قسم لی، وہی کھلاڑی اب اینکر بن کر کھلاڑیوں کی سپورٹس مین شپ پر بات کر رہا ہے۔ حد ہی نہیں ہو گئی۔
شائد یہ سابق کرکٹرز سمجھتے ہیں کہ ہم پاکستانی مریخ میں رہتے ہیں اور صرف اس ٹورنامنٹ کے لیے اس خطہ ارض پر تشریف لائے ہیں اور ہم نے ان سابق کرکٹرز کو کھیلتے نہیں دیکھا نہ انہیں بطور جرنلسٹ بھگتا ہے۔

اس کا موازنہ انڈین سابق کرکٹرز سے کر لیں۔ انہوں نے ہم سے زیادہ ورلڈ کپ جیت رکھے ہیں، رینکنگ میں وہ طویل عرصے سے بہت بہتر ہیں، ہر فارمیٹ میں۔ ان کے سابق کرکٹرز جنہوں نے ورلڈ کپ جتوا رکھے ہیں جیسے مہندر سنگھ دھونی کی ٹیم ہو یا وراٹ کوہلی، روہت شرما وغیرہ، آخر وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟ کسی معاملے میں وہ تنقید کریں بھی تو اپنی ٹیم کے مورال کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ ہاں جب ٹورنامنٹ ختم ہوجائے پھر بے رحمانہ احتساب، تجزیہ، پوسٹ مارٹم سب ہوتا ہے۔
اب یہی دیکھ لیں کہ ٹی20 رینکنگ میں نمبر ون ابھیشک شرما نے گذشتہ تینوں میچوں میں صفر رنز بنائے ہیں۔ پاکستان سے پہلے والے میچ میں بھی صفر کیا، پھر پاکستان کے خلاف بھی وہ پہلے اوور میں آؤٹ ہو گیا، نیدرلینڈ کے خلاف بھی۔ مسلسل صفر کرنے کی ہیٹرک۔ اگر یہ پاکستانی کھلاڑی ہوتا تو ہمارے سابق کھلاڑی جنونیوں کی طرح اس پر حملہ آور ہوتے اور اس کی تکہ بوٹی کر ڈالتے۔ اس کی تکنیک میں سو نقص نکالے جاتے، اسے ڈراپ کر کے کسی اور کو کھلانے کے مشورے دیے جاتے اور نجانے کیا کیا۔ انڈین تجزیہ نگار، سابق کرکٹرز خاموش ہیں۔ وہ ابھیشک شرما کو موٹیویٹ کر رہے ہیں، حوصلہ دے رہے ہیں کہ ایسا ہوجاتا ہے۔ اگلے میچز میں رنز کر لے گا وغیرہ وغیرہ۔
ان کا کوچ گوتم گمبھیر مسلسل کئی ہوم سیریز ہارا، بعض میں تو بری شکست ہوئی۔ اگر پاکستانی کوچ ہوتا تو عین ورلڈ کپ سے باہر اسے نکال باہر کر دیا جاتا۔ انڈین کرکٹ بورڈ، ان کا میڈیا، سپورٹس تجزیہ کار اور سابق کرکٹرز تحمل سے چیزیں دیکھ رہے ہیں، گمبھیر کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ ورلڈ کپ ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کچھ کہیں گے یا نہیں، اس کا پتہ تب چلے گا۔

مجھے تو یہ لگتا ہے کہ باقی خامیاں اپنی جگہ مگر پاکستانی کرکٹ کو ان سابق کرکٹرز سے بچایا جائے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک ضابطہ اخلاقی ترتیب دینا چاہیے جس کے تحت جاری ٹورنامنٹ کے دوران کھلاڑیوں کی تذلیل آمیز کردار کشی سے اجتناب کیا جائے، یا پھر پاکستان کرکٹ بورڈ ان پر پابندی لگائے کہ کسی ٹی وی چینل پر جا کر نہیں بیٹھنا۔ جو پیسے یہ وہاں سے لیتے ہیں، وہ بورڈ اپنی جیب سے دے دے تاکہ کچھ تو فضا میں سکون ہو، جنون ختم ہو۔
وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق، مصباح الحق جیسے بڑے کرکٹرز جب بات کریں تو کچھ سلیقے سے تبصرہ، تجزیہ کرتے ہیں، تنقید بھی مثبت انداز میں کرتے ہیں اور ذاتیات پر حملہ ہرگز نہیں کرتے۔ ہمارے دیگر سابق کرکٹرز کو ان سے سیکھنا چاہیے۔
براہ کرم یہ سابق کرکٹرز اپنی زبانوں کے چاقو کچھ کند کریں، ہاتھوں میں تھامے تیر کمان چند دنوں کے لیے رکھ دیں اور ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے سفر ختم ہونے کا انتظار ہی کر لیں۔ وما علیا الالبلاغ۔












