Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہُرمز میں ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد امریکی فوج کے ایران پر حملے

صدر ٹرمپ نے ایران پر امریکی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا الزام عائد کیا ( فوٹو: اے ایف پی)
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے عمان کے ساحل کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے گرنے کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کردیے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا’ یہ حملے بلا جواز ایرانی جارحیت کے موزوں جواب کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔‘
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ امریکہ اس کا جواب دے گا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ پر لکھا کہ ’مجھے عظیم فوج نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ رات ایرانیوں نے آبنائے ہُرمز کے اوپر گشت کرنے والے ہمارے انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ’ہیلی کاپٹر میں موجود دونوں امریکی پائلٹس محفوظ رہے اور انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی، تاہم اس کے باوجود امریکہ کے لیے اس حملے کا جواب دینا ضروری ہو گا۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے 8 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد معاہدے کے امکانات کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
پیر کو اسرائیل اور ایران نے کہا تھا کہ وہ ایک دوسرے پر حملے روک دیں گے، دونوں ممالک کی جانب سے یہ اعلان صدر ٹرمپ کی اپیل کے بعد سامنے آیا تھا۔
تاہم ایران نے خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں اُس کے اتحادی حزب اللہ پر حملے جاری رکھے تو وہ دوبارہ کارروائی شروع کر دے گا۔
امریکی فوج نے روئٹرز کو بتایا کہ پہلی مرتبہ امریکی بحریہ کے بغیر پائلٹ کے ایک ڈرون نے عمان کے ساحل کے قریب تباہ ہونے والے اپاچی ہیلی کاپٹر کے دونوں پائلٹس کو تلاش کر کے بچایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان میں بتایا کہ ’اپاچی (اے ایچ 64) ہیلی کاپٹر مقامی وقت کے مطابق منگل کی صبح قریباً 3 بجے سمندر میں گرا تھا۔‘
سینٹ کام نے بیان میں کہا کہ تھا دونوں پائلٹس کو قریباً دو گھنٹوں کے اندر محفوظ طریقے سے ریسکیو کر لیا گیا اور اُن کی حالت ’مستحکم‘ ہے۔
دوسری جانب تہران میں ایرانی فضائی دفاع کے دو اہلکاروں کی تدفین کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جو ایک روز قبل اسرائیل کے فضائی حملوں میں مارے گئے تھے۔ اسرائیل میں ایرانی حملوں کے بعد کسی شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں اپنے ’آخری مراحل‘ میں ہیں۔
 ’ہم ایک ایسے معاہدے کے آخری مراحل میں ہیں جو بہت، بہت اچھا معاہدہ ثابت ہوگا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ معاہدہ چند دنوں میں طے ہو جائے گا یا چند ہفتوں میں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’دو یا تین دن میں۔‘

شیئر: