Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرقِ وسطیٰ امن معاہدہ کے آخری مراحل میں ہیں: صدر ٹرمپ

ایران اور اسرائیل نے پیر کے روز کہا کہ ان کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیاں رک گئی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں اپنے ’آخری مراحل‘ میں ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق این بی اے فائنلز کا میچ دیکھنے کے بعد واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’ہم ایک ایسے معاہدے کے آخری مراحل میں ہیں جو بہت، بہت اچھا معاہدہ ثابت ہوگا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ معاہدہ چند دنوں میں طے ہو جائے گا یا چند ہفتوں میں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’دو یا تین دن۔‘
ایران اور اسرائیل نے پیر کے روز کہا کہ ان کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیاں رک گئی ہیں، بعد ازاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے جن سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ دوبارہ بھڑکنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
تہران نے اتوار کے روز لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جاری جنگ کے ردِعمل میں اسرائیل پر میزائل داغے۔ اس کے بعد اسرائیل نے بھی جوابی حملے کیے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس کے نتیجے میں ایران نے ایک اور مرحلے میں اسرائیل پر میزائل داغے، تاہم بعد میں تہران نے اعلان کیا کہ وہ جنگ بندی پر عمل کرے گا اور مزید حملے نہیں کرے گا۔
ایران نے امریکہ کے ساتھ اپنی جنگ بندی، جو 8 اپریل سے متعدد حملوں کے باوجود برقرار ہے، کو لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں سے مشروط کر رکھا ہے۔ تہران نے خبردار کیا تھا کہ لبنان پر حملے جاری رہے تو اسے مداخلت کرنا پڑے گی۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ تازہ جھڑپ ایسے وقت ہوئی جب تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جن میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم لڑائی ان کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
اسی دوران، جب وہ وزارتِ خارجہ میں گفتگو کر رہے تھے، عمارت کے قریب ایک زوردار دھماکا ہوا، جس کے بعد متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک اے ایف پی رپورٹر کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کا نتیجہ تھا۔
پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا اور ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ایک ’خصوصی خط‘ پہنچایا۔
ایک پاکستانی سرکاری ذریعے نے پیر کو بتایا کہ محسن نقوی اپنا دورہ مکمل کرکے پاکستان واپس آ چکے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ تہران اب بھی ’مذاکرات کی میز پر موجود ہے‘ اور سفارتی حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

شیئر: